خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 89

خطبات ناصر جلد ششم ۸۹ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء قادر ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اُسے اس کے ارادہ کو پورا کرنے میں عاجز نہیں کرسکتی۔پس ہمیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ تمام برکتوں کا جو سر چشمہ ہے اور جو حقیقی بادشاہ ہے اسی سے ہر برکت اور نعمت مل سکتی ہے۔جو حقیقی بادشاہ نہیں وہ اگر کسی کو کوئی چیز دینا بھی چاہے تب بھی بعض دفعہ نہیں دے سکتا اور بسا اوقات دینا ہی نہیں چاہتا۔اسی طرح دنیوی بادشاہتیں بعض دفعہ حق تلفی کی طرف اس سے زیادہ مائل ہو جاتی ہیں جتنی اُن کی رعایا فساد اور حق تلفی کی طرف مائل ہوتی ہے یا دنیوی بادشاہ چاہتے نہیں کرنا اور یا پھر چاہتے ہیں یا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم یوں چاہتے ہیں لیکن عملاً کر نہیں سکتے۔در اصل حقیقی بادشاہت تمام قسم کے بندھنوں سے آزاد ہوتی ہے لیکن دنیا کی ہر مخلوق قانون قدرت میں بندھی ہوئی ہے۔درخت یہ نہیں چاہ سکتے کہ وہ لوہے کا کام دیں وہ یہ کام دے ہی نہیں سکتے اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے لکڑی کا کام دینا مقدر کر رکھا ہے۔پس حقیقی بادشاہت اسی کے تصرف میں ہے اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے وہ جو چاہتا ہے سوکرتا ہے اور اس حقیقی بادشاہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ نیکی کے علاوہ بدی کا اختیار رکھتے ہوئے نیکی کرے اور اسی طرح اس بات کا اختیار رکھتے ہوئے کہ اگر وہ چاہے تو خدا تعالیٰ سے دور بھی ہوسکتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو ہر قسم کی قربانیاں دے کر تلاش کرے اور پھر ان پر گامزن رہے اور اس قرب الہی کے نتیجہ میں برکتوں کو حاصل کرے۔پس ساتوں قسم کی موت اور زندگی اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتیں حاصل کر سکے۔بعض اس قسم کی زندگی ہے کہ وہ سوائے انسان کے اور کسی کی نہیں ہے مثلاً روح اور جسم کا اتصال، ایک یہ زندگی ہے جس کے مقابلہ میں موت آتی ہے یعنی روح اور جسم کا اتصال ٹوٹ جاتا ہے اور جسم جو مٹی سے بنا ہے وہ مٹی میں واپس مل جاتا اور روح جسے اللہ تعالیٰ نے قائم رہنے کے لئے بنایا ہے وہ اگلے درجہ میں داخل ہو جاتی ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا۔بہر حال روح ایک اور منزل میں پہنچتی ہے اور پھر اس کی زندگی بھی قائم رہتی ہے اور اس کی ترقی کے لئے دروازے بھی کھلے رہتے ہیں۔