خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 80
خطبات ناصر جلد ششم ۸۰ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء سمجھوتے ہوئے ہیں اور اُن کو حقوق دینے کے لئے انسانی ضمیر سے جو عہد کیا گیا ہے اس کی تعمیل کروائی جاتی لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا اور اب اندرا عبداللہ سمجھوتہ کے ذریعہ یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ جس طرح ہندوستان کے اور صوبے ہیں اسی طرح کشمیر بھی ہندوستان کا ایک صوبہ ہے۔اس اعلان کے ذریعہ سارے وعدے اور ساری قرار دادیں گویا ہوا میں بے قیمت ذروں کی طرح بکھیر دی گئیں حالانکہ اب تو ایٹم کی وجہ سے ذرہ کی بھی بڑی قیمت ہو گئی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو مہذب کہلاتا ہے، اُس کی زبان کی کوئی قیمت نہیں۔پس آج اہل پاکستان متحد ہو کر اس لئے احتجاج کر رہے ہیں کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی کوئی بات ہی نہیں ہے یہ کوئی شرعی یا فقہی مسئلہ نہیں جس میں فقہاء کی رائے کا اختلاف ہوتا یا فرقے فرقے کے عقیدہ کا اختلاف ہوتا۔یہ تو ایک انسانی مسئلہ ہے یہ تو انسان کے حق کا سوال ہے۔اس لئے ہم سب متحد ہو کر کامل اتحاد اور پوری یک جہتی کے ساتھ آج اس نا انصافی کے خلاف پر زور احتجاج کر رہے ہیں۔ہم احتجاج کر رہے ہیں اس ظلم کے خلاف انسانی ضمیر کے سامنے۔اس مسئلہ کے حل کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسانی ضمیر کو بیدار ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور انسانی ضمیر کو یہ ہمت بخشے کہ وہ اس خطہ ارض میں جو نا انصافی اور ظلم ہو رہا ہے اس کو دور کرے اور کشمیریوں کو اس بات کا موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔میں نے سالہا سال کئی مواقع پر اس مسئلہ کے متعلق بہت سوچا ہے اور مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ہندوستانی رہنما اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ کشمیریوں کو یہ حق نہیں دینا کہ کوئی بین الاقوامی تنظیم آکر اُن کی رائے لے لے۔آخر انہوں نے ہندوستان کا کیا بگاڑا ہے کیا کشمیری اُن کی کوئی چیز اُٹھا کر لے گئے ہیں کہ وہ اُن کا حق دینے کے لئے تیار نہیں۔پس جہاں ہم احتجاج کر رہے ہیں انسانی ضمیر کے سامنے کہ وہ کشمیریوں کو اُن کا انسانی اور سیاسی حق دلوائے وہاں ہم اپنے رب کریم کے حضور عاجزانہ جھک کر یہ دعا ئیں بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے فضل سے انسانی ضمیر کو بیدار کرے اور خواہ انسانوں کا ایک حصہ خدا کو نہ بھی پہچانتا