خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 767
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۶۷ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء کی پوجا کر رہے تھے وہ لاکھوں کی تعداد میں جماعت احمدیہ کے طفیل ( اللہ تعالیٰ کے محض فضل اور رحمت سے کہ ہم بالکل لاشے محض ہیں ) افریقہ میں مسلمان بنے لیکن ہماری سیری تو نہیں ہوئی۔لاکھوں بن گئے۔جب تک ہم کروڑوں نہ بنا لیں۔جب تک ہم بنی نوع انسان کو تو حید کی طرف کھینچ کر نہ لے آئیں۔اُس وقت تک ہماری پیاس نہیں بجھ سکتی پس دُعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ آپ کی اور میری پیاس کو بجھانے کے سامان پیدا کرے اور جس کے لئے جن اموال کی ضرورت ہے اُن کو دینے اور خرچ کرنے کی ہمیں تو فیق عطا کرے۔آج یکم نومبر کو تحریک جدید کے تین دفاتر دفتر اول کے اکتالیسویں سال کا اور دفتر دوم کے اکتیسویں سال کا دفتر سوم کے دسویں سال کا میں افتتاح کرتا ہوں۔جو معیار میں نے پچھلے سال دیا تھا۔وہی قائم رہے گا اور جو ادائیگیوں میں میں نے بتایا کہ عارضی طور پر کمی ہے وہ انشاء اللہ دُور ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہوئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو توفیق عطا کرے گا کہ جو عارضی کمزوری ہے۔بیرونی ظلم اور تشدد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس کمزوری کو اپنے فضل سے دُور کرے گا اور آپ کے اخلاص کے مدنظر آپ کو مالی قربانیوں کی بھی توفیق عطا کرے گا۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں۔وہ جلسہ سالانہ کے متعلق ہے۔اس سلسلہ میں دو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں۔ایک تو چونکہ جو اس قوم پر ظلم ہوا کہ بھائی بھائی اور انسان انسان کے درمیان نفرت پیدا کی گئی ہے اس کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے کہ ہمیں روٹی پکانے والے پوری تعداد میں نہ ملیں۔گو یہ یقینی بات نہیں لیکن دنیا کی کوئی چیز ہماری راہ میں اس طرح روک نہیں بن سکتی کہ ہم ناکام ہو جائیں۔اول تو یہ جماعت اتنی پیاری ہے کہ دو تین سال ہوئے جلسہ کے موقع پر آپس میں نان بائی لڑ پڑے تھے اور روٹیوں میں کچھ کمی واقع ہوگئی تو صبح کی نماز سے پہلے اطلاع مجھے ملی ، میں نے صبح کی نماز کے وقت یہ اعلان کیا کہ آج ہر آدمی خواہ مہمان ہے یا مقیم ہے ایک روٹی فی کس کھائے گا اور ہم نے بھی اپنے گھروں میں یہی کیا تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ایک روٹی کھالی بلکہ بعض دوستوں نے مجھے کہا کہ بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے کہا کیا فرق پڑتا ہے ہم سارا جلسہ ہی