خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 766
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء۔انگریزوں کو تبلیغ کر رہے ہیں اور وہ بڑا ہی ذہین انسان اور بڑا ہی بے نفس انسان اور مجھے کہنا چاہیے کہ بڑا ہی بزرگ انسان ہیں اور Top کے احمدیوں میں سے۔پاکستانیوں نے کوئی اجارہ داری تو نہیں لی ہوئی۔قربانیاں دو گے تو خدا کے پیار کو اُس معیار کے مطابق حاصل کرو گے۔بہر حال یہ ہے ہمارا انتقام جب ہم انتقام لیتے ہیں۔خواہ مخواہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ تمہارا رد عمل کیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔ہم نے جب بھی انتقام لیا ہمارا حسین انتقام ہو گا ہمارا شیر میں انتقام ہو گا۔تمہیں جنہوں نے ہمارے اموال کو جلایا اُن میں ہم دنیوی اور دینی اور جسمانی اور روحانی نعمتیں تقسیم کریں گے مگر اللہ کی توفیق سے۔یہ ہے ہمارا انتقام۔دُکھ دینا اور فساد کرنا یہ ہمارا انتظام نہیں۔میں تو بیعت میں تم سے یہ عہد لیتا ہوں کہ کسی کو بھی دُکھ نہیں پہنچاؤں گا۔دُکھ پہنچانے کے لئے ہم پیدا نہیں ہوئے ، مارنے کے لئے ہم پیدا نہیں ہوئے ہم زندہ رکھنے اور زندگی دینے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں۔پس یہ ہے ہمارا انتقام۔جس کی ہمیں امید ہے۔خدا کی توفیق سے ہم یہ انتقام لیں گے لیکن وہ دُکھ پہنچانے والا انتقام نہیں ہو گا۔وہ ناک کے بدلے ناک اور آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں بلکہ فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری:۴۱) والا انتقام ہے۔بہر حال میں تحریک جدید کے متعلق یہ کہ رہا تھا کہ جن دو اغراض کے لئے ایک مومن خدا کے حضور اموال پیش کرتا ہے ایک یہ کہ اس کی مرضات حاصل ہوں یعنی اُس کی تو حید دنیا میں قائم ہو اور جیسا کہ ہم خدا تعالیٰ کی تسبیح اور اُس کی تحمید کرنے میں ایک سرور محسوس کرتے ہیں ہمارے دل میں ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر بندہ خدا کے حضور جھکنے والا اور اُس کی تسبیح کرنے والا اور اُس کو پاک قرار دینے والا اور اُس کی حمد کرنے والا۔تمام تعریفوں کو اُسی کی طرف پھیر نے والا ہو، نہ اپنی طرف نہ غیر اللہ کی کسی اور ہستی کی طرف۔یہ ہماری خواہش ہے۔اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہم خدا کی راہ میں اموال دیتے ہیں اور اُن کا ایک دور تحریک جدید کی شکل میں آیا ہے۔لاکھوں عیسائی تثلیث پرست جو خدائے واحد و یگانہ کو نہیں مانتے تھے یا بُت پرست جنہوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اور لکڑی کے اور اسی طرح دوسرے مادوں سے بت بنائے اور اُن