خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 758 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 758

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۸ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء فرما یا : - قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ اس سے انسان کا اتنا بڑا امتیاز قائم کر دیا اور اُسے اتنی عظیم بشارت دی کہ انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں دیوانہ ہو جاتا ہے اور خشیۃ اللہ سے اُس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔یہ کپکپاہٹ اور خشیت دراصل الہی پیار کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتی ہے۔اسے ابتر از کہتے ہیں۔انسان کے جسم میں سر سے پاؤں تک محبت کی ایک لہر اٹھتی ہے جو اس کے جسم اور روح کے گوشہ گوشہ میں سرور بھر دیتی ہے گو یا اللہ تعالیٰ نے انسان سے یہ کہا کہ اگر تم شرائط کو پورا کرتے ہوئے میرے حضور عاجزانہ تجھکو گے تو میں تم پر رجوع برحمت ہوں گا۔یہ کتنا ہی پیارا فقرہ ہے جو قرآنِ کریم کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہمارے کان میں پڑا۔پس ہر احمدی کو آج اس دنیا میں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دُعائیں کرے اور پھل پائے کیونکہ وہ اس مہدی معہود علیہ السلام پر ایمان لایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایمان کو ثریا سے زمین پر لانے والے ہیں حضرت مہدی معہود علیہ السلام نے ہمیں بار بار اور بڑی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ دعا بہت بڑا اثر رکھتی ہے۔دعا اللہ تعالیٰ کے پیار کو کھینچنے والی ہے شاید ہی کوئی احمدی ہو گا جس نے دُعاؤں کے اثر کو اپنی زندگی میں نہ دیکھا ہو ظاہر ہے اگر کوئی ایسا ہے تو وہ نہایت ہی بد قسمت اور بد بخت ہے۔غرض احباب جماعت کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ دیکھو! دُعاؤں کے رنگ میں اتنی بڑی بشارت تمہیں دی ہے تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور دُعاؤں میں لگ جاؤ اور اس طرح دُعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ کی آواز نہ صرف بشارت کے رنگ میں بلکہ عملاً تمہارے کانوں میں آئے کہ تمہیں (کسی کی اور کیا پرواہ ہے۔میں جو تمہاری پر واہ کرنے والا ہوں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(روز نامه الفضل ر بوه ۲۳ /نومبر ۱۹۷۴ء صفحه ۲ تا ۶ )