خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 742 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 742

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴۲ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء شریعت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض نے ان رسمی انسانوں کو (حقیقی ) انسان بنایا پھر انسان بننے کے بعد اُن کو با اخلاق انسان بنایا اور با اخلاق انسان بننے کے لئے ضروری ہے کہ آسمان سے وحی نازل ہو اور اخلاق سکھائے کیونکہ حقیقی اخلاق جن پر انسان پختگی سے قائم ہوسکتا ہے وہ وحی کے طفیل ہی انسان کو ملتے ہیں مثلاً آج کل کی دنیا کو لے لو۔اس دنیا میں بڑی مہذب قوموں میں ظاہراً تو دیانتداری پائی جاتی ہے یہ ایک انسانی قدر ہے کہ کسی سے بھی دھوکہ نہیں کرنا اور اس کا مال نہیں کھانا۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان کا مال نہ کھاؤ۔اسلام نے کہا ہے کسی کا بھی مال نہ کھاؤ مگریہ ( یہ قومیں ایسی ہیں کہ ) جب تک ان کا فائدہ ہو اُس وقت تک یہ بڑی دیانتدار ہیں۔جتنے کالونیز (Colonies) آباد کرنے والے ممالک ہیں مثلاً سلطنت برطانیہ جس کا دعویٰ تھا کہ اُس کی ایمپائر پر سورج غروب نہیں ہوتا اس ایمپائر کے بانی یعنی انگلستان جو ان کی کالونیز (Colonies) کے ماں باپ کی حیثیت رکھتا تھا جب تک ان کا فائدہ ہوتا تھا یہ بڑے دیانتدار تھے اور جہاں اُن کا فائدہ نہیں ہوتا تھا وہاں وہ دیانتدار نہیں تھے۔تقسیم ہند کے وقت جب پاکستان علیحدہ ہوا اُس وقت کا مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ انگریز کی حکومت کے افسروں نے بددیانتی کی اور پیسے کھائے اور اس طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا۔بہر حال اسلام نے وحشی کو انسان بنانے کے بعد بااخلاق انسان بنایا اور قرآنِ عظیم کی ہدایت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ نے اخلاق بھی وہ سکھائے کہ اُس حُسن اور احسان کے جلوے انسانی عقل کی حدو حدود سے بھی باہر تھے اسلام انسان کے اخلاق کی اتنی باریکیوں میں گیا ہے کہ انسانی عقل وہاں نہیں پہنچتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو بڑی وضاحت سے اسلامی اصول کی فلاسفی میں بیان فرمایا ہے اور بعض دوسری کتب میں بھی اس پر روشنی ڈالی ہے یہ بہت لمبا مضمون ہے جو کئی خطبوں پر مشتمل ہوسکتا ہے لیکن میں اس وقت مختصراً آپ کو اس قسم کے عنوان بتا رہا ہوں۔پس وحشی سے انسان بنایا انسان سے با اخلاق انسان بنایا۔دیانت (جو اخلاق کی کسوٹی پر پوری اترتی ہے )، تکبر سے پر ہیز ، ریا نہیں کرنا لیکن جو یہ حصے دوسرے انسانوں سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کو ہم اخلاق کہتے ہیں یعنی انسان سے تکبر سے پیش نہ آنا، اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام