خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 687
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۷ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء آپ جیسا اُسوہ نہ پہلوں نے کبھی دیکھا نہ بعد میں کوئی دیکھ سکتا ہے۔پس خالص اتباع کا کامل نمونہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ یہ دونوں معنی ہمیں بتاتا ہے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ نے تقاضا کیا کہ فرمان آئے گا۔جب کامل بندہ بننا ہے اور خدا تعالیٰ کے اخلاق کے رنگ میں رنگین ہونا ہے تو ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ خدا چاہتا کیا ہے؟ اس کا حکم کیا ہے اس کا فرمان کیا ہے؟ اس واسطے فرمان لانے والے عظیم وجود پر ایمان لانا ضروری ہو گیا اور فرمان لانے والے کے عظیم اُسوہ حسنہ پر ایمان اور اعتقاد اور یقین بھی ضروری ہو گیا اس کے بغیر تو کوئی شخص اپنے محدود دائرہ استعداد کے اندر روحانی ترقی کر ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نبوت اور صدیقیت اور دوسرے جو بزرگی کے القاب اور مقامات ہیں صرف وہ ہی نہیں بلکہ روحانیت کا ادنیٰ سے ادنی درجہ بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیض کے بغیر انسان حاصل نہیں کر سکتا اور یہی ایک حقیقت ہے اس واسطے ہر شخص کے لئے خواہ وہ عالم ہو یا جاہل خواہ اس کی روحانی استعداد بڑی ہو یا چھوٹی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ اُسوہ ہیں جو اس کے دائرہ استعداد میں اس کی روحانیت کو ممکن کمال تک پہنچا سکے ( ممکن کمال“ میں نے دائرہ کی وجہ سے کہا ہے اس اُسوہ کے بغیر ایسا ممکن نہیں )۔پس میں نے بتایا ہے کہ یہ ہمارا عظیم کلمہ ہے جس کا ایک جز إله إلا الله اور دوسرا جز و مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ ہے اور سوائے اللہ کے کوئی ہمارا مطلوب نہیں اور اس طلب میں ( مطلوب کا مطلب ہے جس کے لئے طلب ہو ) ہم نے اس کی معرفت حاصل کی اور اس معرفت کے نتیجہ میں ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوئی اور اس کی رضا کے حصول کی ایک بہت بڑی تڑپ بھی پیدا ہوئی تا کہ اس کا پیار ہمیں حاصل ہو۔صرف یکطرفہ ہمارا پیار نہ رہے اس کا پیار بھی ہمیں حاصل ہو اور اس کے پیار کے حصول کے لئے عبد بنا ضروری ہے۔اس واسطے سوائے اس کے کوئی معبود نہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کے اخلاق اور اس کی صفات کے رنگ میں انسان رنگین نہ ہو خدا تعالیٰ کا پیارا انسان حاصل ہی نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور پہلو سے اس کو بیان کیا ہے۔ایک اور طریق سے آپ نے فرمایا ہے کہ وہ پاک ہے