خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 688 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 688

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۸ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء اور جب تک تم پاک نہیں ہو گے اس کی محبت کو پا نہیں سکتے۔وہ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔جب تک تم اور میں اس کے مطابق اخلاق اپنے اندر پیدا نہ کریں اس کی محبت کو نہیں پاسکتے۔وہ تمام کمزوریوں سے منزہ ہے۔جب تک ہم استغفار کی چادر میں لپٹ کر اس کے فضل کے ساتھ اپنی بشری کمزوریوں کو چھپا نہ لیں اس وقت تک ہم اس کے پیار کو حاصل نہیں کر سکتے اور عبد بننے کے لئے اس کے فرمان کے سمجھنے کی ضرورت ہے بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ اس کے فرمان کی موجودگی کی ضرورت ہے اور وہ پاک وجود جو کامل شریعت اور ہدایت لا یا اس پر ایمان کی ضرورت ہے اور ان احکام کے مطابق، ان اوامر و نواہی کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے کے لئے ایک بہترین ایک اعلیٰ ترین نمونہ کی ضرورت ہے جو ہمارے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں رکھا گیا۔پس یہ دنیا جس میں دنیا کے لوگ بستے ہیں ایک اور دنیا ہے اور وہ دنیا جس میں احمدی بستے ہیں وہ ایک اور ہی دنیا ہے اور احمدیوں کا فرض ہے کہ اپنے نفسانی جذبات کو بالکل فنا کر دیں اور کسی صورت میں کسی حال میں غصہ اور طیش میں نہ آئیں اور نفس بے قابو ہو کر وہ جوش نہ دکھلائے جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا ہے بلکہ تواضع اور انکسار کی انتہا کو پہنچ جائیں اور اپنی پیشانیاں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے حضور زمین پر رکھے رہیں۔عملاً اس مادی زندگی میں یہ ممکن نہیں لیکن روحانی زندگی میں نہ صرف یہ کہ اس کا امکان ہے بلکہ ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کی پیشانی خدا تعالیٰ کے حضور ہمیشہ زمین پر پڑی رہی اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنی رحمتوں سے انہیں نوازا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو تیرے عشاق بن جاتے ہیں تو ہر دو عالم ان کو دے دیتا ہے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ایک شعر کے دو مصرعوں میں لفظوں کی تبدیلی کر کے عجیب شان پیدا کی ہے ) جو تیرے عاشق حقیقی بن جائیں تو ہر دو جہاں ان کو دے دیتا ہے لیکن جو خود کو تیرے غلام سمجھتے ہیں وہ ان جہانوں کو لے کر کیا کریں؟ وہ تو تیرے در پر پڑے ہوئے ہیں اور اسی میں خوش ہیں۔ہم بھی اس کے در پر پڑے ہوئے ہیں اور اسی میں خوش ہیں