خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 608

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۰۸ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء کئے اور جماعت احمدیہ پر کفر کے فتوے لگائے لیکن ساری دنیا کے مولویوں کے فتوؤں کے بعد بھی احمدی کا فرنہیں بنے اس لئے اب حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔دراصل یہ اعلان ہے ساری دنیا کے علمائے ظاہر کا کہ ہم تو احمد یوں کو کافر کہہ کہہ کر تھک گئے مگر ہم سے یہ کا فرنہیں بنتے اب حکومت کچھ کرے تا کہ ہمارے دل خوش ہوں۔گویا ساری دنیا کے علماء کی کوششوں کی ناکامی کے مقابلے میں حکومت کچھ کرے تا کہ مولویوں کے دلوں میں ٹھنڈ پڑے۔پس دنیا کے علمائے ظاہر کی طرف سے یہ اعلان در حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے سارے فتوے ناکام ہو گئے ہیں۔میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں ۱۹/۱۸ سال کی بات ہے حکومت پنجاب کے ایک سیکرٹری جو ہمارے ساتھ آکسفورڈ میں پڑھا کرتے تھے، ایک دن مجھے کہنے لگے کہ علماء میرے پاس آرہے ہیں اور وہ مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ حکومت ایک تو جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے اور دوسرے یہ قانون بنایا جائے کہ کوئی شخص آئندہ احمدی نہیں بنے گا۔میں نے انہیں جواب دیا کہ جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے یہ قانون بنانے سے پہلے کہ آئندہ کوئی شخص جماعت احمدیہ میں داخل نہیں ہو گا آپ کو ایک اور قانون بنانا پڑے گا کہنے لگے وہ کیا؟ میں نے کہا کہ آپ کو پہلے یہ قانون بنانا پڑے گا کہ ہم پاکستان میں ”منافقین“ کا ایک ایسا گروہ پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دل سے احمدی ہوں اور زبان سے اس کا انکار کریں کیونکہ دنیا کی کوئی مادی طاقت دل کا عقیدہ نہیں بدل سکتی۔کسی کے زبان سے اظہار پر آپ پابندی لگا سکتے ہیں اس کے دل کے عقیدہ پر نہیں لگا سکتے۔اگر اس قسم کا قانون بنادیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہزاروں لاکھوں آدمی دل سے تو احمدی ہوتے چلے جائیں گے لیکن زبان سے کہیں گے کہ وہ احمدی نہیں ہیں۔اس لئے پہلے یہ قانون بناؤ کہ ہم اس قسم کے منافقوں کی ایک جماعت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دل سے احمدی ہوں گے لیکن زبان سے انکار کر رہے ہوں گے۔باقی رہی پہلی بات یعنی احمدیوں کو ، غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تو انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ مولوی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے سارے فتوؤں کے باوجود عوام کی بہت بھاری