خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 407
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۷ خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۷۳ء اور غیر سیاسی جماعت ہے۔یہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت ہے۔اس لئے دنیا میں جہاں جہاں بھی فساد کے حالات پیدا ہوں یہ جماعت ان سے لازماً متاثر ہوتی ہے۔افراد جماعت پر بھی عالمی فتنہ فساد کا اثر پڑتا ہے۔گویا وہ امن اور سلامتی اور صلح اور آشتی جس کے قیام کے لئے اسلام کو قائم کیا گیا ہے اگر اس کے برعکس حالات پیدا ہوں تو جماعت ان سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔اس لئے ہم یہی چاہتے ہیں اور یہی ہماری دلی خواہش ہے کہ دنیا میں امن اور سلامتی اور صلح اور آشتی کا دور دورہ ہو لیکن جب کبھی دنیا میں فساد رونما ہوتا ہے تو یہ جماعت ہی ہے جو انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی رنگ میں بھی دعا کی طرف توجہ کر سکتی ہے۔اس لئے احباب جماعت کو موجودہ حالات میں پہلے سے بھی زیادہ دعا کی طرف توجہ دینی چاہیے۔اس وقت ویسے تو دنیا کو بہت سے مسائل در پیش ہیں لیکن فوری طور پر عالمگیر نوعیت کے دو مسئلے بڑے واضح ہیں جن کی طرف آج کا انسان نوع انسانی کی حیثیت سے بھی اور انسانیت کا نچوڑ اور انسان کامل کا متبع ہونے کے لحاظ سے بھی اجتماعی طور پر غور کر رہا ہے۔ان میں سے ایک مسئلہ مشرق وسطی میں پیدا شدہ فساد کے حالات کو دور کرنے کی کوشش سے متعلق ہے۔یہ کوشش شاید آج جنیوا میں شروع ہو جائے گی یا ممکن ہے اس میں کوئی روک پیدا ہوگئی ہو اس لئے یہ کوشش کچھ دن کے لئے ملتوی ہو جائے۔واللہ اعلم۔بہر حال دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے یہ ایک بہت بڑا اور نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔ہم احمدیوں کو یہ مسئلہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ وہ جنگ جس وہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی گئی تھی اور جس سے یہ خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے(جیسا کہ بتایا گیا ہے ) کہ خطہ ہائے ارض سے زندگی (صرف انسانی زندگی نہیں بلکہ ہر قسم کی زندگی ) کا خاتمہ ہو جائے کیونکہ لوگوں نے ایٹم اور ہائیڈ روجن بم وغیرہ قسم کے مہلک ہتھیا را ایجاد کر رکھے ہیں۔اس بھیانک جنگ کی ( خدا اس سے محفوظ رکھے ) اگر ابتدا ہوئی تو اس کی ابتدا انہی علاقوں سے ہوگی جہاں آج کل فساد پیدا ہورہا ہے اور مسلمان علاقوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی تھی اس وقت شام کا جغرافیہ کچھ اور تھا اور آج کچھ اور ہے۔چنانچہ پیشگوئیوں میں یہ بتایا گیا کہ ارضِ شام سے اس جنگ کے شعلے