خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 406 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 406

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۶ خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۷۳ء اور آپ کے ذریعہ آسمانی ہدایت اور شریعت کی تکمیل کی گئی۔آپ کی بعثت کے ساتھ تکمیل ہدایت ہو گئی تو پھر قرآن کریم نے تمام بنی آدم کو اجتماعی طور پر مخاطب کیا۔نوع انسانی کے سب افراد، دنیا کے سب ممالک اور سب خطے قرآنی احکام کے مخاطب ٹھہرے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ اب جبکہ عالمگیر اصلاح کے سامان پیدا ہو چکے ہیں اور اصلاح کے ان سامانوں کے بعد عالمگیر فتنہ وفساد سے بچنے کی راہیں بھی معین کر دی گئی ہیں اور علم کی اشاعت کی وجہ سے ان پر چلنا بھی آسان ہو گیا ہے اس لئے وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ اصلاحها اس اصلاح کے بعد تم کوشش کرو کہ عالمگیر فساد رونما نہ ہو یا عالمگیر فساد بپا ہونے کے محرکات پیدا نہ ہوں تاہم انسان اپنے زور سے ایسا نہیں کر سکتا اس کے لئے انسان اللہ تعالیٰ کی نصرت، مدد، راہنمائی اور عملی توفیق کا ہر آن محتاج ہے اس لئے فرما یا دعا کے ساتھ خدا کی مدد مانگو اور کوشش کرو کہ اصلاح کے سامان پیدا ہو جانے کے بعد انسانی ذہن اور مادی طاقتیں فساد کی طرف مائل نہ ہوں۔انسان بسا اوقات مادی طاقتوں کے بل بوتے پر فساد بپا کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اس خطرناک رجحان کو روکنے کے لئے اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس لئے فرمایا خاموشی سے چپکے چپکے بھی دعاؤں میں لگے رہو اور تضرع اور ابتہال کے ساتھ اور گڑ گڑا کر بھی دعائیں مانگو کہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق دنیا میں امن اور امان قائم ہو جائے اور ہر طرف صلح اور آشتی کی فضا پیدا ہو جائے۔آج دنیا کی اکثریت یا تو سرے سے دعا پر یقین ہی نہیں رکھتی یا منہ سے اس یقین کے اظہار کے باوجود دعاؤں کی طرف اس رنگ میں متوجہ نہیں رہتی جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہرلمحہ میں دعا کی طرف متوجہ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔اگر اس وقت اسلام میں کوئی جماعت دعا پر یقین رکھتی ہے اور اس یقین کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ صرف جماعت احمد یہ ہی ہے جو جماعتی اور انفرادی ہر دو لحاظ سے دعا پر کامل یقین رکھتی ہے اور علم کے ساتھ عمل کی کوشش کرتی ہے۔یہ ایک عالمگیر روحانی جماعت ہے۔یہ ایک بین الاقوامی خالص مذہبی