خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 368
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۶۸ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء عزیزوں کے لئے بھی کافی نہیں تھے۔لیکن اب تو وہ کیفیت نہیں رہی۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے ربوہ میں مکان پر مکان بنتا چلا جا رہا ہے اور یہ اس برکت کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لئے مقدر ہے اور یہ ان بشارتوں کا ظہور ہے جو ہمیں دی گئی ہیں۔چنانچہ چند سال پہلے ہمارے نئے کالج (جونیئر کیمپس کہلانے لگ گیا ہے ) کے پاس ایک محلہ ہے جو دار العلوم کہلاتا ہے وہاں اِکا دُکا مکان تھا مگر چند دن ہوئے میں ایک شادی کی تقریب پر وہاں گیا تو وہ علاقہ مکانوں سے اتنا بھرا ہوا تھا کہ پہچانا ہی نہیں جاتا تھا۔غرض اس ایک نئے محلے میں کئی سو مکان بن چکے ہیں اور یہی حال دوسرے محلوں کا ہے۔اس لئے اہلِ ربوہ سے میں یہ کہوں گا کہ کیا وہ چار پانچ سو کمرے (خواہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں) اپنے ان بھائیوں اور اپنے عزیزوں کے لئے فارغ نہیں کریں گے جو ان کے ساتھ روحانی رشتہ میں منسلک ہیں جن کے ساتھ ظاہری طور پر یاد نیوی لحاظ سے تو دوستی ، عزیز داری یا رشتہ داری کا تعلق نہیں ہے لیکن جماعتی طور پر وہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے عشق میں وہ بھی سردیوں کے دنوں میں اپنے بچوں کو اٹھائے چلے آتے ہیں۔اہلِ ربوہ کو ان کا بھی اسی طرح خیال رکھنا چاہیے جس طرح وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کا خیال رکھتے ہیں۔گو اس میں کوئی شک نہیں کہ ربوہ کے دوستوں کے عزیز اور رشتہ دار بھی حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آتے ہیں ان کی بھی کوئی دنیوی غرض نہیں ہوتی۔اہلِ ربوہ ان کے لئے اپنے مکانوں کے جو حصے خالی کرتے ہیں اس نیت اور اخلاص سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ثواب دے گا۔تاہم اہل ربوہ جہاں اتنی قربانی کرتے ہیں وہاں ان کو یہ بھی چاہیے کہ وہ اس چھوٹے سے گروہ کو نظر انداز نہ کریں۔ان کے لئے بھی اپنے دلوں میں ایک تڑپ پیدا کریں اور ان کے ٹھہرنے کے لئے اپنے اپنے مکانوں کا کوئی نہ کوئی حصہ خالی کر کے نظام جلسہ کو بروقت اطلاع کر دیں۔جلسہ سالانہ کے انتظامات کے سلسلہ میں جو دوسری بات میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ گزشتہ برس میں نے کہا تھا کہ اہل ربوہ مسکراتے چہروں کے ساتھ حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے مہمانوں کا استقبال کریں۔مجھے خوشی تھی کہ اہل ربوہ نے مسکراتے چہروں کے ساتھ مہمانوں کا