خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 338

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۸ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء وغیرہ وغیرہ مکاتیب فکر یہ تعلیم پیش نہیں کر سکتے تھے۔صرف خدا تعالیٰ ہی ہے جو اس قسم کی اعلیٰ تعلیم انسان کی بہبود کے لئے دے سکتا ہے۔پس نئے مسائل چونکہ زمانہ کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے مظہر بندوں میں سے بعض کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے قرآن کریم کے نئے معانی سکھاتا ہے اور ان نئے معانی کا تعلق کتاب مکنون سے ہے۔ورق الٹتے ہیں اور کتاب مکنون کے یہ حصے کتاب مبین کا حصہ بن جاتے ہیں۔یہ بات کہ زمانہ بدل رہا ہے اور اسلام پر آج تک نئے اعتراضات پڑتے چلے آئے ہیں اور نوع انسان کو نئے مسائل در پیش آتے ہیں۔یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کتاب جس کا دعویٰ خاتم الکتب ہونے کا ہے اور جس نے دنیا میں یہ اعلان کیا کہ میں قیامت تک کے لئے غیر مبدل ہوں اور تمام حقائق زندگی اور حقائق زندگی میں جو اندھیرے اور سائے نظر آئیں میں ان میں روشنی پیدا کرنے کے سامان میرے اندر ہیں۔پس خاتم الکتب کے لئے یہ ضروری تھا کہ ہر زمانہ میں اس کے مخفی حقائق اور معارف مطہرین کے گروہ کو سکھائے جاتے اور دنیا کے سامنے وہ ان کو پیش کرتے۔پس ایک تو نئے اعتراضات کا رڈ کرنے کے لئے اور دوسرے نئے مسائل کے حل تلاش کرنے کے لئے نوع انسانی کو جو ضرورت تھی وہ ضرورت پورا کرنے کی خاطر مطہرین کو اللہ تعالیٰ خود معلم بن کر قرآن کریم کے نئے معارف سکھاتا اور اس کے بطون میں سے کچھ ان پر ظاہر کرتا ہے تا کہ زمانہ جدیدہ کے مسائل حل ہوسکیں۔اور تیسری بات ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ قرآنِ کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ہمیشہ کے لئے ہدایت و شریعت ہے۔ایک ایسی حقیقت ہے جو ابدی ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے یعنی پہلی صداقتوں کو اس نے اپنے اندر لے لیا۔اس لحاظ سے پہلی ہدایتوں اور شریعتوں سے اس کا تعلق قائم ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے جن ہدایات کی ضرورت تھی وہ اس میں پائی جاتی ہیں۔دراصل یہ دعویٰ اس بات کے مترادف ہے کہ خدا تعالیٰ کی صنعت“ کی صفات بھی غیر محدود ہیں۔ہر چیز میں اس کی غیر محدود صفات نظر آتی ہیں کیونکہ حتی و قیوم خدا سے ان کا گہرا تعلق ہے۔یہ صنعت خواہ کہکشاں (Galaxy) کی شکل میں لیں یعنی وہ بے شمار ستاروں کا مجموعہ جو ایک خاندان کی