خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 69 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 69

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۹ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۳ء ہوتا ہے ایک احمدی کے وقت کی بڑی قیمت ہے اگر چہ ایک احمدی کے ایک گھنٹے کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے لیکن اگر کم از کم پندرہ بیس روپے لگائی جائے تو اتنے پیسے اُس شخص کو دینے پڑیں گے جس کے بچے نے درخت کو نقصان پہنچایا ہوگا لیکن جبر کوئی نہیں۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ہم کسی پر جبر نہیں کرتے ایسے شخص کے لئے دوراہوں میں سے ایک راہ کھلی ہے یا تو وہ محلہ کا مقرر کردہ جرمانہ ادا کرے۔یا اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ جبر ہے ظلم ہے اور سختی ہے تو اس کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ ربوہ چھوڑ کر چلا جائے پھر اس کو یہاں رہنا نہیں چاہیے۔ہم جبر نہیں کرتے لیکن ہم اس کو بھی جبر کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ کہے کہ میں یہاں رہوں گا بھی اور کسی درخت کو میرے بچے چھوڑیں گے بھی نہیں۔خراب کرتے جائیں گے اس کی اجازت تو نہیں دی جاسکتی۔ہر محلے کو چاہیے کہ وہ آج اپنی اپنی مسجد میں شام کے وقت یا مغرب یا عشاء کے بعد مشورہ کرے کہ بچوں کی تربیت کے لئے کیا قدم اٹھایا جانا چاہیے۔بچوں کی تربیت کا بہر حال خیال رکھا جانا چاہیے کیونکہ آگے چل کر جماعت کے بوجھ ان کے کندھوں پر پڑنے والے ہیں جنہوں نے ساری دنیا کی تعمیر نو کرنی ہے۔ظاہر ہے وہ درختوں کی تخریب نہیں کریں گے۔یہ امر صحیح تربیت کا متقاضی ہے لیکن اگر ماں باپ بچوں کی صحیح تربیت نہیں کریں گے تو ان کی غفلتوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔میں کچھ کنوؤں کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں درختوں کے لئے پانی کی ضرورت ہے بعض محلوں میں پانی کی کمی تھی تو میں نے کہا آؤ ملکر کام کریں محلے والے رضا کارانہ طور پر کچھ کام کریں کچھ جماعت اُن کو مدد دے۔چنانچہ شروع میں دو محلوں میں بجلی کے ٹیوب ویل کا انتظام ہوا۔بعد میں تیسرا محلہ بھی اس انتظام میں شامل ہوا میرے نزدیک محلہ دارالعلوم نے ٹھیک کام کیا ہے۔وہاں ہم نے پانچ ہزار سے کم خرچ کیا۔مجھے آج ہی رپورٹ ملی ہے کہ شاید آج یا کل بجلی کا کنیکشن مل جائے گا۔محلہ الف میں یہ کام مکمل نہیں ہو سکا۔محلے والوں کا قصور نہیں ہمارے منتظمین کا قصور ہے۔سیکیم یہ تھی کہ محلے رضا کارانہ طور پر اپنے ہاتھ سے بہت سے کام کریں اور کچھ تھوڑا سا جماعتی خزانہ سے پیسہ لگا کر اور جماعت کی مدد سے ٹیوب ویل لگائے جائیں۔اس کی بجائے منتظمین نے صرف ٹینکی کا اندازہ پچاس ہزار روپے لگایا ہے۔میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ اس مرحلے میں