خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 68

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۳ء تمہارے بکرے نے کالج کا زیادہ نقصان کیا ہو تو روپے دے جانا۔اگر تمہارے بکرے کی قیمت تمہارے مقرر کردہ ثالث نے زیادہ بتائی تو جتنا ہمارا نقصان ہے اس سے جو زائد ہوگا وہ کالج تمہیں دے دے گا۔اس میں جھگڑنے کی کیا بات ہے۔پس ربوہ میں بکریاں پالنے والے دوستوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کسی محلہ میں ان کی آوارہ بھیڑ بکریوں نے پودوں کا نقصان کیا اور محلے والوں نے پانچ دس بکرے ذبح کر کے کھالئے تو اس کا اسی اصول پر فیصلہ ہو گا جس کا میں نے ابھی اظہار کیا ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ محلے والوں کا یہ حق نہیں ہے مگر بکرے والوں کا بھی یہ حق نہیں ہے اس لئے ہم بکرے والوں سے کہیں گے ثالث لے آؤ اور جو فرق ہے ( یعنی پودوں کے نقصان اور بکرے کی قیمت کے درمیان ) وہ تم لے جاؤ۔ہم کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہتے۔مگر پودوں کا نقصان بھی نہیں دیکھ سکتے جس طرح بکرے والے کا یہ کہنا حق ہے کہ اس کا حق نہ چھینا جائے۔اسی طرح محلے والوں کا یہ کہنا بجا ہے کہ محلے کا حق نہ چھینا جائے دوستوں کو احتیاط برتنی چاہیے۔یہ اصول قائم ہو چکا ہے۔ہم اس کے مطابق فیصلے کر دیں گے نہ بکری والوں کا نقصان ہوگا اور نہ محلے والوں کا۔انجان بچے بھی پودوں کا نقصان کرتے ہیں۔گو بکریوں سے تو وہ بہر حال زیادہ عقل اور ہوش رکھتے ہیں لیکن چونکہ ابھی وہ شعور اور عقلی بلوغت کو نہیں پہنچے ہوتے اس لئے پودوں کا نقصان کرتے ہیں۔اس کے متعلق میرے ذہن میں ایک تجویز آئی تھی لیکن وہ میں بتانا نہیں چاہتا۔آپ خودسوچیں۔تاہم کسی بچے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی درخت کو نقصان پہنچائے یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔نہ کسی محلے والے کا یہ حق ہے کہ وہ بچے کو مارے یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے۔جہاں تک بچوں کو مارنے کا سوال ہے اس کے ساتھ بکری والا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔بچے کو تو بہر حال حفاظت ملنی چاہیے۔اس لئے اس کو کوئی مارے گا نہیں لیکن یہی حفاظت اس کے باپ یا سر پرست کو نہیں دی جاسکتی اس کو کوئی نہ کوئی سزاملنی چاہیے۔ہر درخت بڑا ہونے میں اور اس عمر اور اس قد اور پھیلاؤ تک پہنچنے میں کہ وہ مفید ہو وقت لیتا ہے۔اس پر خرچ کرنا پڑتا ہے خواہ وہ درخت مفت لے کر ہی کیوں نہ لگایا گیا ہو۔خرچ کے علاوہ ہم نے آپ کو کہا درختوں کو پانی دیں اُن کا خیال رکھیں۔گوڈی کریں۔اس پر وقت صرف