خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 779 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 779

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۷۹ خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء چیکوسلواکیہ میں اُن کے قتل و غارت کے لئے اپنی فوجیں لے کر آگئے حالانکہ وہ بھی کمیونسٹ تھے اور اُن کا اقتصادی معیار وہ نہیں بننے دیا جو ان کے اپنے ملک کا تھا اور جو روس کے مشرق میں مسلمانوں کے علاقے ہیں ان کا اقتصادی معیار اور جو وائٹ رشیا (White Russia) کہلاتا ہے اس کا " ر اقتصادی معیار۔اس نعرہ کے باوجود کہ ” To each according to his needs بالکل اور کر دیا۔بھلا دو انسانوں کی ضروریات بنیادی طور پر مختلف کیسے ہو گئیں؟ فروعی طور پر تو مختلف ہو سکتی ہیں مثلاً جو چھ فٹ کا جوان ہے اُس کے لباس پر زیادہ کپڑ ا خرچ آئے گا بہ نسبت اس انسان کے جس کا قد ساڑھے چارفٹ ہے۔یہ تو فروعی فرق ہوا۔لیکن اصول یہ ہے کہ ہر ایک کو ایک جیسا ایک ہی قسم کا کپڑا ملے۔اُس کپڑے کی کمیت میں تو فرق ہو گا لیکن کیفیت اور قسم میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔میں بتایہ رہا ہوں کہ جو انسان نے انسان کے لئے قوانین بنائے اول تو وہ ناقص ہیں پھر ان پر عمل ناقص۔اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ایک تعریف کر دی اور پھر جب چاہا وہ تعریف بدل دی۔پس وہ قانون جو بنیادی اصول سے بندھا ہوا نہ ہو وہی قانون ہے کہ جو اپنی مرضی سے جب چاہے بدل دیا۔اسی لئے اسلام کو ہر دوسرے قانون پر فوقیت حاصل ہے کہ مسلمان کا یا مومن احمدی کا جو قانون ہے وہ قرآنِ کریم کی ہدایت سے بندھا ہوا ہے اور اس وجہ سے وہ محفوظ ہے اور اُس کے حسن پر کوئی داغ نہیں لگتا لیکن جو قانون انسان نے بنایا ہے وہ بدلتا رہتا ہے۔آج کچھ قانون بنا یا کل کچھ بنادیا۔جیسے جیسے حالات بدلے ویسے ویسے چالاکیاں کر کے بعض لوگوں کو فوائد سے محروم کرتے رہے یا بعض کو زیادہ فوائد دے دیئے ساری دنیا میں یہ ہو رہا ہے۔امریکہ میں بھی ، روس میں بھی ، یورپ میں بھی، کیونکہ انسانی قانون کا حسن الہی حُسن کے ساتھ بندھا ہوا نہیں ہے۔اس لئے قرآن کریم نے تو کہا کہ یہ نہیں کرنا کسی شخص کو یہ نہیں کہا کہ جو مسلمان نہیں اُس کا آدھا پیٹ بھرنے کی تجھے اجازت ہے۔جن غلاموں کے متعلق شروع میں اسلامی شریعت اور قانون کے مطابق عمل ہونا تھا اُن میں سے تو بہت سے مسلمان نہیں تھے اور غلام تھے اور اُن کے متعلق کہا کہ ٹھیک ہے یہ تمہارے ہم عقیدہ نہیں ہیں لیکن تمہارے ہم جنس اور ہم نوع ہیں۔اس