خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 780 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 780

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۸۰ خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء لئے جیسا تم نے کھانا ہے ویسا ہی اُن کو دینا ہے لیکن انسان جب قانون بنا تا ہے تو اپنے مطابق ، اپنی ضرورت کے مطابق ، اپنے خیالات کے مطابق۔اپنے تعصبات کے مطابق اس میں ایک چک رکھتا ہے لیکن پیدا کرنے والے رب کو تو کسی سے بھی کوئی تعصب نہیں ہے۔اُس نے تو ہر انسان کو پیدا کیا اور ہر انسان کے انسانی حقوق قائم کئے۔ایسے حسین قوانین ہیں (میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے اس وقت موقع نہیں پھر موقع ہوا تو پھر یاد دھانی کرا دوں گا) کہ اپنے بیرونی ممالک کے دوروں کے دوران بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات سے میں نے باتیں کی ہیں۔میں نے اسلامی تعلیم پیش کر کے کہا یہ ہے اسلام کی اقتصادی تعلیم۔اس سے بہتر یا اس جیسی تعلیم مجھے دکھا دو تو میں سمجھوں گا کہ تمہارے پاس کچھ ہے تو وہ آگے سے بات نہیں کرتے۔میں نے پہلے بتایا تھا کہ ۷۳ء کے دورہ کے دوران یورپ کے دوملکوں میں مجھے شرمندہ ہونا پڑا کہ جب میں نے اسلامی تعلیم بیان کی تو مجھ سے پوچھا گیا کہ اتنی حسین تعلیم ہے۔یہ تو ہم مانتے ہیں لیکن یہ بتائیں کہ اس حسین تعلیم کو جانتے ہوئے بھی آپ نے ہمارے عوام تک اسے پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے؟ ٹھیک ہے ابھی ہمارے پاس اتنی دولت نہیں۔ہمارے پاس اتنے انسان نہیں جو ہر جگہ پہنچ کر اُن کو بتائیں لیکن ہما را قدم اس جہت کی طرف اُٹھ رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اسلامی تعلیم کا پیغام گھر گھر میں پہنچایا جائے گا اور اسلام کے حسن اور احسان سے اُن کے دل جیت کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے انہیں جمع کر دیا جائے گا۔پس قرآنِ کریم نے فرمایا کہ خدا کا ولی بن جاؤ یعنی یہ کوشش کرو کہ خدا سے ذرہ برابر بھی دوری نہ رہے کہ کسی غیر کی بیچ میں گنجائش نکل آئے تمہارے دل میں یہ جذبہ اور خواہش ہونی چاہیے کہ میں خدا کا ایسا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ میرے اور خدا کے درمیان ایک ذرہ برابر بھی فرق نہ رہ جائے کیونکہ اگر ذرہ برابر بھی فرق ہو تو میرے اور خدا کے درمیان وہ ذرہ آجائے گا اور وہ دُوری اور مہجوری ہوگی ، ناکامی کا احساس ہوگا کہ میں نے اپنا مقصد حاصل نہیں کیا۔میں اتنا قریب نہیں ہوا۔خدا تعالیٰ نے کہا تم ایک دفعہ قریب آ کر تو دیکھو میں تمہارے قریب آجاؤں گا اور سچی بات یہ ہے کہ جو انسان خدا تعالیٰ کا اس طرح قرب حاصل کر لیتا ہے جس طرح دو باہم