خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 774
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۷۴ خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء وہ لوگوں کے ساتھ پورا تعاون کرتے ہوئے دو ایک دن کے اندراندران کو اجازت دیں گے کہ وہ چار دیواری بنالیں اور سروس رُوم بنا لیں۔میں نے تو قواعد وغیرہ نہیں پڑھے۔ہماری ٹاؤن کمیٹی کے بہت سے By-laws یعنی ذیلی قوانین ہیں اگر ذیلی قوانین میں یہ ہو کہ چار دیواری اور سروس روم کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں تو اُن کی طرف سے اس کا اعلان ہو جانا چاہیے تا کہ سب دوستوں کو پتہ لگ جائے اگر اس کے لئے اجازت کی ضرورت ہے تو جو بھی درخواست آئے اس کو فوری طور پر منظور کرنے کا انتظام ہونا چاہیے تا کہ جو وعدے علی الاعلان پبلک جلسوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے لوگوں سے کئے ہیں لوگ محسوس کریں کہ وہ وعدے پورے ہو رہے ہیں اور انتظامیہ ان وعدوں کے پورا ہونے میں روک نہیں بن رہی۔بہر حال اب میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں گے۔جو مضمون آج کے خطبہ میں میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قرآنِ عظیم نے مومن سے کہا کہ خد تعالیٰ کا ولی بنو اور اگر تم اللہ کے ولی بنو گے تو اللہ تمہارا ولی بن جائے گا۔ولی کے معنی صرف پیار کرنے والے یا دوستی کرنے والے کے نہیں ہوتے۔ولی کے معنی یا ولایت کے معنی یا ولی کے معنی اُس قرب کے ہیں کہ دو چیزوں کے اُس قُرب کے بعد اُن کے درمیان کوئی اور چیز آہی نہ سکے ، اس کا آنا ممکن ہی نہ ہو یعنی اللہ سے قریب تر ہو جانا۔تو قرآنِ کریم نے فرمایا ہے کہ تم اولیاء اللہ بنو۔اس سلسلہ میں بہت سی آیات ہیں۔فرمایا اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اور جن کا یہ دعوی ہے کہ قرآنِ کریم کی ہدایت اور شریعت پر ہم ایمان لائے یعنی ہم زبان سے اس کا اقرار کرتے ہیں اور قلب صمیم اور قلب سلیم کے ساتھ یہ اعتقا در کھتے ہیں اور ہمارا عمل یہ ظاہر کرے گا کہ ہم یہ ایمان لاتے ہیں کہ کامل اور مکمل شریعت خدا تعالیٰ نے قرآن عظیم کی شکل میں انسان کے ہاتھ میں دی اور اس پر عمل کرنا انسان کے دین اور انسان کی دنیا کے لئے ضروری ہے اور اس کے بغیر دین و دنیا کی حقیقی حسنات انسان کو مل ہی نہیں سکتیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میرے ولی بنو میں تمہارا ولی بنوں گا اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا (البقرة : (۲۵۸) دوسری بہت سی آیات میں زیادہ تفصیل سے بھی بتایا۔جو متعدد آیات اکٹھی میں نے پڑھی ہیں ان میں سے پہلی میں ہے واللہ