خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 773
خطبات ناصر جلد پنجم 22M خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ عام حالات میں جس قدر مکانات بنتے رہے اس سال شاید نہ بنے ہوں۔بہر حال میرا یہ تاثر ہے میں نے کوئی اعداد و شمار اکٹھے نہیں کئے اس لئے میں نے یہ توجہ دلائی تھی کہ جن دوستوں کے یہاں رہائشی پلاٹ ہیں اُن میں چھوٹی سی چار دیواری اور ایک کمرہ بنادیں۔اس نیت کے ساتھ کہ اُن کے تو کام آئے گا ہی لیکن اُس زمین اور اُس تعمیر میں برکتیں ہوں گی خدا تعالیٰ کی خاطر جمع ہونے والوں کے استعمال میں سب سے پہلے وہ کمرے آئیں۔مجھے امید ہے کہ اس طرف دوستوں نے توجہ کی ہوگی کیونکہ مکان بنانے کی نیت کے معابعد تو تعمیر شروع نہیں ہو سکتی اس کے لئے سامان خریدنا اور پھر اُس کو تعمیر کی جگہ لے کر آنا اس میں وقت لگتا ہے اور اگر ہماری ربوہ کی ٹاؤن کمیٹی جو حکومت نے قائم کی ہوئی ہے۔اس کا یہ قانون ہو کہ چار دیواری اور سروس روم کے لئے بھی اُن کی اجازت لینی چاہیے تو اس میں بھی چار پانچ دن لگیں گے اور گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ بہر حال وہ قانون ہے اور قانون کی پابندی کرنا ضروری ہے اور بہر حال یہ عوامی حکومت ہے اور عوامی خدمتگار کہلانے والے جو خود کو آج سے قبل خدام عوام نہیں سمجھتے تھے اب بار بار وزیر اعظم صاحب نے ان کو تو جہ دلائی ہے کہ تم عوام کے خادم بن کر کام کرو۔آپ نے متعدد بار ایسی نقار پر اخباروں میں پڑھی ہوں گی۔پس میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ اس دنیوی ہدایت بالا کو سامنے رکھ کر ربوہ کے شہریوں کو ہر قسم کی سہولت جلد تر بہم پہنچانے کی خاطر اور پریشانیوں سے ان کو بچانے کے لئے جب اس قسم کی درخواستیں اُن کے پاس آئیں گی تو دو چار دن کے اندر اندر وہ ان کے فیصلے کر کے ان کو اجازت دیں گے کہ اپنے قطعات میں چار دیواری بھی بنائیں اور سروس روم بھی۔سروس روم میں نے اس لئے کہا کہ نقشہ بنانا اور پھر اس کی اجازت لینا اس میں لمبا وقت لگتا ہے لیکن ساری دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جب تعمیرات ہوتی ہیں اور مکان بنتے ہیں تو ایک عارضی کمرہ بنا دیا جاتا ہے جہاں سیمنٹ اور دوسرا سامانِ تعمیر رکھا جاتا ہے اُسے سروس رُوم کہتے ہیں اور وہ عارضی ہوتا ہے۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ آپ عارضی انتظام کریں گے لیکن ہمیشہ کے ثواب کے آپ وارث بن جائیں گے۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ جنہیں عوامی حکومت نے عوام کی خدمت کے لئے ربوہ میں مقرر کیا ہے