خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 772
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۷۲ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۷۴ء افسر جلسہ سالا نہ رہا ہوں اور مجھے ذاتی علم ہے کہ ایک چھوٹے سے کمرہ میں اتنے مہمان ٹھہرے ہوئے ہوتے ہیں کہ عام حالات میں اُتنے مہمانوں کا اُس چھوٹے کمرہ میں ٹھہر نا متصورہی نہیں ہوسکتا۔آدمی سوچ ہی نہیں سکتا کہ اتنے چھوٹے سے کمرہ میں ٹھہر سکتے ہیں لیکن قربانی اور ایثار کرنے والے اللہ کے دوست اور ولی خدا تعالیٰ کی باتیں سننے کے لئے یہاں آتے ہیں انہیں اپنے آرام کا خیال نہیں ہوتا وہ ہر قسم کی بے آرامی کو بھول جاتے ہیں۔انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ رہائش کی تکلیف ہے، کھانے پینے کی تکلیف ہے۔عادتوں کے خلاف کھانا ملتا ہے اور گزشتہ سال تو بیرونِ ملک سے جو احمدی دوست آئے تھے وہ حیران ہوتے تھے (جیسا کہ کئی دوستوں نے مجھے کہا کہ اس قدر سردی پڑ رہی تھی اور گہر تھی اور اس طرح خاموشی کے ساتھ اتنا بڑا مجمع خدا تعالیٰ کی اور خدا تعالیٰ کے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کوشن رہا ہوتا تھا تو اس نظارہ اور اس کیفیت کا مشاہدہ ایسے جلسوں کے علاوہ کہیں اور انسان کو نظر نہیں آتا۔پس یہ تو درست ہے کہ دوست اپنے گھروں میں اپنے عزیز واقارب، اپنے دوستوں اور شناساؤں کو بطور مہمان کے رکھ لیتے ہیں۔وہ مہمان جو حقیقتا مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ بہت سے ایسے دوست یہاں تشریف لاتے ہیں جن کی واقفیت اور دوستی نہیں ہوتی اور وہ بہر حال یہاں ٹھہرتے ہیں اور اُن کا انتظام ہونا چاہیے۔انہیں جماعتی نظام کے ماتحت ٹھہرایا جاتا ہے اور پھر یہ انتظام آگے دو شکلیں اختیار کرتا ہے ایک تو وہ عمارتیں ہیں جن میں جماعتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔مرد علیحدہ ٹھہرتے ہیں اور ہماری بہنیں علیحدہ ٹھہرتی ہیں اور ایک وہ خاندان ہیں جنہیں جلسہ سالانہ کے انتظام کے ماتحت اُن کمروں میں جو دوست جلسہ سالانہ کے انتظام کو پیش کرتے ہیں یا اُن خیموں میں جو اس موقع پر اس غرض کے لئے لگائے جاتے ہیں ٹھہرایا جاتا ہے اور سینکڑوں ایسے خاندان ہیں جنہیں بڑی کوفت اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔اس لئے میں تحریک کرتا ہوں کہ اپنے مکانات میں سے جس قدر ممکن ہو خواہ چھوٹا ہی کمرہ کیوں نہ ہو، دوست جماعتی نظام کو دیں اور چونکہ ہر سال جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ربوہ میں ہر سال عمارتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے لیکن چونکہ یہ سال پریشانی اور ہنگاموں کا گزرا اس لئے