خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 721 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 721

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۲۱ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء طبیعت میں کمزوری ہے اس لئے مختصر صرف ایک بات بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔خشیت اللہ جس چیز سے ہمیں باز رکھتی ہے یا قرآن کریم کی رُو سے اللہ تعالیٰ جس بات سے ناراض ہو جاتا ہے اور نفرت کرنے لگتا ہے وہ ہے تکبر۔یعنی عاجزی کا فقدان گو یا کسی آدمی کا مختلف شکلوں میں خود کو بڑا سمجھنا یا خود کو دوسروں سے بلند قرار دینا تکبر ہے مثلاً کسی کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے دل میں غرور اور کبر پیدا ہو جاتا ہے یا کسی کے پاس سیاسی اقتدار ہوتا ہے وہ ( بعض اوقات ) متکبر بن جاتا ہے۔کسی کے پاس علم ہوتا ہے یا کسی کو مہارت حاصل ہوتی ہے جو اسے متکبر بنادیتی ہے وغیرہ وغیرہ۔بیسیوں باتیں ہیں جن کے نتیجہ میں بعض دفعہ انسان تکبر کرنے لگتا ہے تاہم ہر علم ، ہر سیاسی اقتدار، ہر دولت ، ہر جتھہ اور ہر جسمانی طاقت کے نتیجہ میں کبر نہیں پیدا ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کے بندے انہی چیزوں کی بدولت خدا تعالیٰ کے مزید فیوض کو حاصل کرتے ہیں لیکن دولت، اقتدار اور علم و مہارت کی وجہ سے بعض دفعہ تکبر بھی پیدا ہو جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنَّ الَّذِينَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ - (الاعراف:۴۱) دوسری جگہ فرمایا:۔إنَّه لا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ۔(النحل : ۲۴) یعنی اللہ تعالی تکبر کرنے والے سے پیار نہیں کرتا۔وہ ایسے لوگوں سے نفرت کرتا ہے جیسا کہ سورہ اعراف کی مذکورہ بالا آیت میں فرمایا کہ جو لوگ ہمارے احکام کو جھٹلاتے ہیں اور ہمارے نشانات سے اعراض کرتے ہیں اور وہ اس وجہ سے اعراض کرتے ہیں کہ وہ خود کو ان احکامات اور نشانات کے لانے والوں سے بڑا سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا کہ جب رسول آتے ہیں اور ہمارے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے بڑے رسول اور خاتم الانبیاء تھے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے جیسا انسان ہمارے اوپر روحانی حکومت چلانے آ گیا ہے۔پس خود لوگوں کا یہ تکبر اور فخر یعنی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا یا اپنے نفس کو ایسی