خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 716
خطبات ناصر جلد پنجم 217 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء سے مثلاً دس برتنوں میں سیر سیر دودھ پڑ گیا۔باقی ماندہ میں سے مثلاً کسی کے پیندے کے ساتھ لگا ہوا ہے۔جس برتن میں پیندے کے ساتھ دودھ لگا ہوا ہے وہ برتن ”خوش نہیں۔قرآن نے کہا کہ جہنم بھی شور مچا دے گی کہ کوئی اور ہے تو اور مجھے دے دو۔وہاں ایک علیحدہ فلسفہ بیان ہوا ہے وہ اس مضمون کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز جس کام کے لئے جس مقدار اور جس حد تک جانے کے لئے بنائی گئی ہے اتنی پوری مقدار اس کو نہ ملے تو پوری خوشی اس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کی عبادات اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رنگ میں کیں کہ آپ کی استعداد جہاں تک آپ کو پہنچا سکتی تھی وہاں تک آپ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنی استعداد کے مطابق کامل خوشی حاصل کی۔اگر چہ دوسروں کے مقابلے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اکثر لوگ تو زمین پر ہی روحانی مسٹر تیں حاصل کر رہے ہیں ، پہلے آسمان تک بھی نہیں پہنچے اور آپ ساتویں آسمان کو بھی پھلانگ کر عرشِ ربّ کریم کے پاس پہنچے اور خدا تعالیٰ نے بڑے پیار کے ساتھ اٹھا کر اپنی دائیں طرف اپنے عرش پر بٹھا لیا۔اس حقیقت کے بیان کے لئے یہ ایک تمثیلی زبان ہے ورنہ سمجھ ہی نہیں آسکتی اور ایک وہ شخص ہے جس کی استعداد اور ظرف صرف پہلے آسمان تک جاتا ہے۔جب اس کا پیمانہ بھر گیا تو جس طرح دودھ کا برتن منہ تک بھر جانے سے ایک حسن پیدا ہوتا ہے، بھینسوں والوں میں سے جس نے پہلے کبھی یہ حسن نہیں دیکھا وہ جا کر دیکھے کہ سیر والا پیمانہ جب بھر جاتا ہے تو اس میں ایک حُسن پیدا ہوتا ہے، جب پیندے میں دو چھٹانک دودھ پڑا ہوا ہو تو اس میں کوئی حسن پیدا نہیں ہوتا۔ہماری یہ ظاہری آنکھ بھی اس حسن کو دیکھتی ہے۔پھر جانوروں کی خوبصورتیاں ہیں مثلاً بڑی خوبصورت وہ بھینس ہے جس کا جسم پوری طرح ڈیویلوپ (Develop) ہوا ہو۔وہ بہت اچھی لگتی ہے۔یہاں بہت سے زمیندار آئے ہوئے ہیں۔وہ خیر اور برکت کے ساتھ واپس جائیں اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور امان کے اندر وہ جائیں۔( موسم اب بدل رہا ہے اور شرافت کا موسم اور حقوق کی ادائیگی کا موسم آ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر فضل کرے۔یہ تو ضمنی بات تھی )