خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 703
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۰۳ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء امتحان کے وقت مومن کے اندر ضعف نہیں پیدا ہوتا بلکہ وہ ایمان میں ترقی کرتا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۰ رستمبر ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ماہ رمضان اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آگیا ہے۔اس مہینہ میں قریباً ہر قسم کی عبادات جمع کی گئی ہیں۔صدقہ وخیرات ، قربانی ، روزہ رکھنا، قرآن کریم کی تلاوت کثرت کے ساتھ کرنا ( جو منبع اور سر چشمہ ہے تمام علوم کا اور بنیادی طور پر دنیوی علوم کا بھی منبع ہے اور روحانی علوم کا سر چشمہ تو ہے ہی ) اسی وجہ سے صوفیائے کرام کا یہ قول ہے کہ اس ماہ میں تنویر قلب کے بہت سے سامان رکھے گئے ہیں یعنی اگر خلوص نیت کے ساتھ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور میں قربانیاں دے تو کشف کا دروازہ کھلتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر سال میں ایک ماہ ایسا رکھ دیا کہ جس میں اس قسم کی عبادتیں اکٹھی ہو گئیں کہ ( جن کے نتیجہ میں ) اللہ تعالیٰ اپنی رضا کی راہوں کو فراخ کر دیتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالی آسمان سے (اُتر کر ) انسان کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔یہ ایک تمثیلی زبان ہے ( بعض لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آتی اور دماغ میں اعتراض پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے لیکن تمثیلی زبان میں ہم یہ کہتے ہیں کہ آسمان سے نیچے اتر آتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کشف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کی راہیں اس پر آسان ہو جاتی