خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 704 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 704

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۰۴ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء ہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کا ایک مخلص اور مومن بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طفیل کشف حاصل کرتا اور محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے قریب ہے اور بعد کے خطرات اور توہمات سے وہ نجات حاصل کر لیتا ہے۔پس اس ایک مہینہ میں اگر ہم سمجھ کے ساتھ اور عرفان کے ساتھ ان عبادات کو بجالائیں جن کو اس مبارک مہینہ میں اکٹھا کیا گیا ہے تو روحانی طور پر زیادہ ذوق اور شوق پیدا ہوتا ہے اور عام دنوں اور عام موسموں کے علاوہ ان دنوں میں روحانی طور پر محبتِ الہی کی ایک آگ بھڑکتی ہے اور یہ روحانی تپش اور آگ ایسے سامان پیدا کرتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کو زیادہ روشن طور پر اپنی زندگی میں دیکھتا ہے اور اس کے پیار پر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کا شکر اور حمد کرنے کا اور اس کی راہ میں قربانیاں دینے کا سلسلہ اور بھی تیز ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے مہینے سے زیادہ سے زیادہ برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے۔پچھلے خطبہ میں میں نے جماعت کو یہ بتایا تھا کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور مہدی معہود ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک محبوب ترین روحانی فرزند ہیں ) کی وساطت سے نئے سرے سے وہ معرفت عطا ہوئی جو صحابہ کرام کو اسلام کی نشاۃ اولی کے زمانہ میں ملی تھی اور اس معرفت کا نتیجہ یہی ہوتا ہے خواہ وہ دنیوی معرفت ہو یعنی یقینی علم ہو یا روحانی معرفت ہو کہ اس سے محبت پیدا ہوتی ہے یعنی جب انسان کو اللہ تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کا علم ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی اس معرفت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے انسان کے دل میں محبتِ ذاتی پیدا ہوتی ہے محبت ذاتی کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی محبت نہیں ہوتی جو دنیا دار مثلاً انگلستان یا ہندوستان یاکسی اور ملک کا رہنے والا اپنے افسر سے محبت یا لگاؤ کا اظہار اس لئے کرتا ہے کہ اس سے کچھ دنیاوی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ایک اس قسم کی (میں کہوں گا ) بیہودہ سی محبت بھی دنیا میں پائی جاتی ہے لیکن جس وقت خدا تعالیٰ کی معرفت انسان کو حاصل ہو جائے اور اس کی عظمت اور اس کے جلال کا علم مل جائے اور یقینی طور پر انسان کے سامنے خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال اور اس کا حسن اور اس کا احسان آجائے تو خدا تعالیٰ کا پیار پیدا ہوتا ہے۔محبت دل میں پیدا ہوتی ہے اور میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ جب انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اس طور پر ذاتی محبت