خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page vii
V میں خدا تعالیٰ کے حضور تضرع کے ساتھ گڑ گڑا ؤ اور اُس کی مدد حاصل کرنے کی اور اُس کی رضا کے حصول کی اور اُس سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ یہ عظیم منصو بہ یا ایک پاگل سوچ سکتا ہے یا ایک مخلص جانثار جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کو پہچانتا ہو۔پس عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ان نفلی عبادتوں کے ساتھ جس کا منصوبہ ابھی میں نے آپ کے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کریں۔“ ۶ - ۱۵ / فروری ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے صد سالہ جشن تشکر کے منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ منصوبہ جس وقت میرے ذہن میں آیا تو بعض دوستوں نے بھی مشورہ دیا اور خود میرے دماغ نے بھی اسکے متعلق سوچا اور مطالعہ کیا۔اس دوران میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے بعض فرمان بھی میری نظروں سے گزرے۔۔۔۔اس وقت دنیا میں دہریت اور اشتراکیت کے رستے میں انہیں ایک ہی روک نظر آتی ہے اور وہ جماعت احمد یہ ہے۔پس ایک بین الاقوامی متحدہ حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تا اسلام دنیا پر غالب نہ آئے۔اس بین الاقوامی منصوبہ کا مقابلہ کرنے کے لئے اللہ تعالی کی منشا سے ”صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ بنایا گیا ہے جس کی رُو سے مالی قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔“ ۷۔۳۱ رمئی ۱۹۷۴ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت کے خلاف ہنگاموں کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:۔۲۹ مئی کو اسٹیشن پر یہ واقعہ ہوا۔آگ تو بڑی شدت سے بھڑکائی گئی ہے لیکن یہ آگ ناکام ہوگی ان شاء الله تعالی۔ناکامی اس معنی میں نہیں کہ کسی احمدی کو بھی مختلف قسم کی قربانیاں نہیں دینی پڑیں گی ، وہ تو دینی پڑیں گی۔جب تک جماعت احمد یہ کے احباب وہ اور اس قسم کی تمام قربانیاں خدا کے حضور پیش نہیں کرتے جو قربانیاں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے خدا کے حضور پیش کی تھیں اس وقت تک وہ ان