خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 631
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۳۱ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء ہر طرح سے آزمائے جاؤ۔سو تم اس وقت سُن رکھو ( غلبہ اسلام کی مہم تمہارے سپرد کی گئی ہے اور نوع انسانی کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فتح کرنے کا جو کام تمہیں سونپا گیا ہے اُس میں۔ناقل ) کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو یا گالی کے مقابل پر گالی دو۔کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے اور تم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خدا تعالیٰ نفرت کرتا ہے اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے۔سو تم ایسا نہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو۔ایک خلقت کی اور دوسری خدا کی بھی۔یقیناً یا درکھو کہ لوگوں کی لعنت ، اگر خدائے تعالیٰ کی لعنت کے ساتھ نہ ہو کچھ بھی چیز نہیں۔اگر خدا ہمیں نابود نہ کرنا چاہے تو ہم کسی سے نابود نہیں ہو سکتے لیکن اگر وہی ہمارا دشمن ہو جائے تو کوئی ہمیں پناہ نہیں دے سکتا۔ہم کیونکر خدائے تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو۔اس کا اُس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا کہ تقویٰ سے۔سواے میرے پیارے بھائیو کوشش کرو تا متقی بن جاؤ۔بغیر عمل کے سب باتیں بیچ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔سو تقوی یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بیچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ اور پر ہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔سب سے اوّل اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو اور سچ مچ دلوں کے علیم اور سلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شر کا پیج پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اگر تیرا دل شہر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی۔اور ایسا ہی تیری آنکھ اور تیرے سارے اعضا۔ہر یک نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہو جاتا ہے۔سوا اپنے دلوں کو ہر دم ٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والا اپنے پانوں کو پھیرتا رہتا ہے اور رڈی ٹکڑے کو کاٹتا ہے اور باہر پھینکتا ہے۔اسی طرح تم بھی اپنے دلوں کے مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیر تے رہو اور جس خیال یا عادت یا ملکہ کو رڈی پاؤ اُس کو کاٹ کر باہر پھینکو ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سارے دل کو