خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 628 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 628

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۲۸ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء غائب کر سکتے ہیں؟ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی ہم مسکرائیں گے۔اُس یقین کی وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے غلبہ کی ہمیں بشارت دی ہے اور ہماری زندگی کی کوئی حقیقت نہیں۔بعض بچوں کو یا بعض غیر تربیت یافتہ احمدیوں یا جن کے اندر ذرا کمزوری میں محسوس کرتا ہوں ان کو سمجھانے کے لئے میں کہا کرتا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ خطر ناک چار پائی ہے۔آپ نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ یہ کتنی خطر ناک چیز ہے۔دنیا کی کسی بھیا نک ترین جنگ میں اتنے انسان نہیں مرے جتنے ایک سال میں چار پائی پر دم تو ڑ دیتے ہیں۔انسان کی موت اکثر چار پائی پر واقع ہوتی ہے نا ! پس اگر مرنے سے خوف کھانا ہے تو پھر سب سے زیادہ خطر ناک اور ہمارے دل میں خوف پیدا کرنے والی چار پائی ہونی چاہیے۔جو سب سے زیادہ جانیں لے جاتی ہے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ چار پائی ہمارے لئے خوف نہیں پیدا کرتی۔وہ ہماری جان نہیں لیتی۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں زندہ رکھتا ہوں اور میں ہی مارتا ہوں۔جب زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے اور موت کا ایک وقت خدا کے علم میں مقدر ہے مثلاً زید ہے۔اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ فلاں تاریخ کو اُس نے اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے اُس کے لئے کوچ کی دورا ہیں تھیں۔یا وہ چار پائی پرمر جاتا یا دین کے رستہ میں اُس کی جان چلی جاتی۔وہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بدر کے میدان میں شہید ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کی موت اس دن مقد رتھی۔منافقوں کو خدا نے یہی کہا کہ تم موت سے بھاگ کر کہاں جا سکتے ہو۔اگر اُس دن صحابہ بدر کے میدان میں جانے سے ہچکچاتے اور وہاں نہ پہنچتے تو اپنے مکان کے سامنے گلی میں اُن کو ٹھوکر لگتی اور سرکسی سخت جگہ پر لگتا اور وہ مرجاتے کیونکہ اُن کی موت اُس وقت مقد رتھی۔کتنی پیاری ہو گئی، کتنی حسین ہو گئی ، کتنی بشارتوں کی حامل ہوگئی وہ موت جو چار پائی پر یا گلی میں گر کر نہیں آئی بلکہ بدر کے میدان میں آئی۔موت تو اُس دن آنی ہی تھی۔اس لئے زندگی اور موت یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمیں ڈرانے والی ہو یا ایک احمدی کے دل میں خوف پیدا کرنے والی ہو۔آگ ہمارے خلاف آج ہی تو نہیں بھڑکائی جا رہی۔۱۹۴۷ء میں بھی ہمارے خلاف آگ بھڑ کائی گئی تھی اور اُس کے شعلے آج کے مقابلہ میں زیادہ بھڑک رہے