خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 612
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۲ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء کیں اور پھر پچاس یا سو سال کے بعد پیدا ہونے والے جو بزرگ تھے ان پر یہ کہ کر فتوی لگا دیا کہ آپ جو باتیں کرتے ہیں وہ سید عبد القادر جیلانی سے مختلف ہیں۔پہلے ان پر فتوی لگا یا کہ تم پہلے بزرگوں سے مختلف باتیں کرتے ہو۔پھر بعد میں آنے والے بزرگ اولیاء پر فتویٰ لگا یا کہ تم سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اسلام کی جو تفسیر دنیا کو بتائی تھی اس سے مختلف تفسیر بتارہے ہو۔بہر حال علماء اب یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا فتویٰ ہو یعنی حکومت کا فتویٰ ہو جس میں یہ اختلاف نہ ہو کہ صبح کچھ اور شام کو کچھ کہ دیا جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کیوں فتویٰ دے؟ حکومت کو نہ انسانی عقل، نہ انسانی شرافت، نہ انسانی فطرت اور نہ وہ مذاہب جو کسی وقت خدا کی طرف سے زمین پر نازل ہوئے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کے دلوں پر حکم لگائے۔ایک جنگ کے موقع پر ایک شخص جو اسلام کے خلاف لڑ رہا تھا جب ایک مسلمان کی تلوار اس کے سر پر کوندی تو اس نے کہا لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ مگر اس مسلمان نے اسے یہ کہتے ہوئے قتل کر دیا کہ تم جان کے خوف سے اسلام لائے ہو۔جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا آپ اس صحابی سے سخت ناراض ہوئے اور اس سے فرمایا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔آپ نے فرمایا خدا جب یہ پوچھے گا کہ اس نے جب کلمہ پڑھا تو تم نے کس اصول اور کس عقیدہ اور کسی تعلیم کے مطابق اس کی گردن کاٹی تو بتاؤ تم خدا کو کیا جواب دو گے؟ پس دنیا کا کوئی مذہب کسی حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ اگر کوئی شخص یا کوئی جماعت یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے تو حکومت یہ کہے کہ نہیں تم مسلمان نہیں ہو۔یہ تو اتنی موٹی اور بڑی واضح بات ہے کہ وہ لوگ بھی جو خدا کی ہستی کا انکار کرتے ہیں ، حیات انسانی کی اس صداقت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ہماری دنیا میں اس وقت کچھ تو غیر جانبدار قسم کے ملک ہیں لیکن جو طاقتور اور دولت مند دنیا ہے وہ دوحصوں میں منقسم ہے۔ایک کو دائیں دنیا یعنی Rightist کہتے ہیں اور دوسری کو بائیں دنیا یعنی Leftist کہتے ہیں۔چنانچہ Rightist بھی اس صداقت کو تسلیم کرتے ہیں اور