خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 611
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۱ خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۷۴ء ان کے خاندان اور ان کے ہم عقیدہ لوگوں کو کم از کم بارہ سال تک حج سے روکا گیا اور ان کے بعض ہم خیال یا ملتے جلتے خیالات رکھنے والے لوگ جو ہندوستان سے حجاز چلے گئے تھے ان سب پر اس وقت کی حکومت نے بڑی سختیاں شروع کر دیں جس پر انگریزوں کو دخل دے کر ان کی جانیں بچانی پڑیں لیکن پھر بھی چوٹی کے بعض علماء جو ہندوستان سے وہاں گئے تھے ان کو ۳۹-۳۹ کوڑوں کی سزا دی گئی اور باقیوں کو انگریزی حکومت کے دباؤ پر زبردستی ہندوستان واپس بھیج دیا گیا اور اب ان کی وہاں حکومت ہے اور موجودہ علماء کے فتوے اس سے مختلف ہیں جو پہلے دیئے گئے تھے۔حکومتیں بدل جانے کی وجہ سے اور حالات میں تبدیلی آجانے کے نتیجہ میں علمائے ظاہر کے وہ فتاوی جو چودہ سو سال سے کفر کے متعلق دیئے جاتے رہے ہیں ان میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور کوئی عقلمند انسان صرف اسی نقطۂ نگاہ سے دیکھے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ علماء کے فتاویٰ قابل قبول نہیں کیونکہ آج ایک فتویٰ دیا دس دن کے بعد دوسرا فتویٰ دے دیا۔آج ایک فتویٰ دیا بارہ سال کے بعد ایک دوسرا فتویٰ دے دیا۔حرمین شریفین کا ہمارے دل میں احترام کا یہ حال ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ساری آبادیاں ان مٹی کے ذروں پر قربان ہونے کے قابل ہیں جن پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں پڑا تھا لیکن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کا احترام اپنی جگہ اور ان علمائے ظاہر کا احترام اپنی جگہ جنہوں نے ایک وقت میں محمد بن عبدالوہاب اور ان کے متبعین پر کفر کا فتویٰ لگایا اور بڑا سخت فتویٰ لگایا اور دوسرے وقت میں ان کے مسلمان ہونے اور کسی دوسرے کے کافر ہونے کا فتویٰ لگا دیا اور یہ دونوں فتوے ہمارے کتب میں حرمین شریفین کے فتاوی کے نام سے مشہور ہو چکے ہیں۔بہر حال چونکہ ان کے اپنے فتوؤں کو قرار نہیں اس لئے دنیا جو د نیوی لحاظ سے کافی حد تک صاحب فراست بن چکی ہے گودین کا علم اس کو حاصل نہیں۔اس کا ایک زبر دست اعتراض ان علماء کے فتاویٰ پر یہ ہے کہ آج تم ایک فتویٰ دیتے ہو پھر پچاس سال کے بعد دوسرا اور متضاد فتویٰ دے دیتے ہو مثلاً ایک وقت میں سید عبدالقادر جیلانی پر علماء نے یہ کہہ کر کفر کا فتوی لگا یا کہ آپ قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے وہ باتیں کرتے ہیں جو آپ سے پہلے علماء اور بزرگوں نے نہیں