خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 42

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۲ خطبہ جمعہ 9 فروری ۱۹۷۳ء کی آنکھوں میں جب موت نے آنکھیں ڈالیں تو انہوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شاہراہ ترقی اسلام اور غلبہ اسلام پر اپنی حرکت کو اور بھی تیز کر دیا۔یہی گذشتہ چودہ سوسال میں ہوتا رہا ہے اور یہی اب ہو رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ ہوتا رہے گا جب تک کہ اسلام ساری دنیا پر غالب نہ آجائے۔یہ تو خدا کی تقدیر ہے یہ تو ہو کر رہے گا۔حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی پیارے روحانی فرزند کی بعثت ہی اس غرض کے لئے ہوئی ہے لیکن آپ کی جماعت سے منسلک ہو جانے کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول کو اپنے وجودوں میں مشاہدہ کر لینے کے بعد جو ذمہ داریاں عسر اور ٹیسر کی حالت میں ہم پر عائد ہوتی ہیں ان کو سمجھنا ، اُن کو پہچانا اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہمارا فرض ہے۔بحیثیت جماعت تو کامیابی کے علاوہ کوئی امکان نہیں کیونکہ جماعت احمد یہ ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہے اور اس نے بہر حال اس مقصد کو حاصل کرنا ہے۔بحیثیت فرد یا گروہ ( یعنی جو چھوٹا سا گروہ جماعت میں پیدا ہو ) ان کے لئے بعض دفعہ فکر کی بات پیدا ہو جاتی ہے۔وہ انفرادی طور پر کمزوری دکھا جاتے ہیں وہ خدا کی طرف رجوع کرنے کی بجائے بندوں کی طرف رجوع کر لیتے ہیں یا ایسا خیال ان کے دل میں گذرتا ہے لیکن ہمارا تو کامل تو کل اپنے ربّ پر ہے ہمارا کامل بھروسہ اپنے رب پر ہے ہمارا مرجع ہمارا رب ہے اور رب کے علاوہ ہر چیز ہماری نگاہ میں لاشی اور نیست ہے اور کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہم خوش ہیں اس لئے کہ ہم اُسی کے فضل سے نہ کہ اپنے کسی عمل یا اپنی کسی قربانی کے نتیجہ میں خود کو اس کی گود میں پاتے ہیں۔پس جو سارے عالمین کو پیدا کرنے والا اور ساری طاقتوں کا منبع اور سر چشمہ ہے جب اس کے ساتھ ہمارا تعلق ہے تو بے وقوف ہے وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ الہی سلسلہ اس کے رعب میں بھی آسکتا ہے۔ہرگز نہیں آسکتا اور نہ انشاء اللہ تعالیٰ و بفضلہ کبھی آئے گا لیکن ہماری ذمہ داری بڑی ہے اور اس کی طرف بار بار توجہ دلانی پڑتی ہے۔خصوصاً نو جوان نسل کو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ نہیں دیکھا۔بہت سے ایسے ہیں جن کے ذہنوں میں ۱۹۵۳ء۔۱۹۵۲ء کے حالات بھی نہیں ہوں گے۔ہم اس وقت لاہور میں تھے ( میں اپنی بات کر رہا ہوں یعنی میں اور میرے کچھ ساتھی )