خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 41
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۱ خطبہ جمعہ 9 فروری ۱۹۷۳ء ایک مہم جاری کی اور یہ مہم اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کی مہم ہے اس زمانہ میں لوہے یا مادی تلوار کے ذریعہ نہیں بلکہ اسلام کی روحانی تلوار کے ساتھ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے مہدی معہود کی بعثت ہوئی۔اپنا تو کچھ نہیں تھا اور نہ ہے سب کچھ خدا تعالیٰ کی عطا ہے۔چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا انسانیت کے دل میں آپ کی زندگی کا مقصد اور بعثت کا مقصد یہی ہے۔اتنے عظیم مقصد کے ہوتے ہوئے وہ طاقتیں جو اندھیرے کی پروردہ ہیں اور روشنی سے نفرت رکھتی ہیں خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتیں۔اللہ تعالیٰ کبھی ایک رنگ میں اپنی جماعت کو آزماتا ہے اور کبھی دوسرے رنگ میں۔کبھی دنیا کے دُکھ اس کی نعمتوں کے تلے دب جاتے ہیں اور بظا ہر فراخی ہی فراخی برکتیں ہی برکتیں اور رحمتیں ہی رحمتیں نظر آتی ہیں اس وقت بھی اللہ کا بندہ غرور اور تکبر سے کام نہیں لیتا نہ خود پسندی اور ریاء کا مظاہرہ کرتا ہے کبھی ان نعمتوں کے ساتھ آزمائش کا دور بھی آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت تو اپنے بندے کے ساتھ رہتی ہے اور اس کا قادرانہ ہاتھ اس کی حفاظت بھی کر رہا ہوتا ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دُکھ دیئے گئے اور وہ آزمائشوں میں ڈالے گئے اور تکلیفوں میں مبتلا کئے گئے اور ان پر ایک جرار د شمن حملہ آور ہو گیا لیکن دھواں چھٹتا ہے اور روشنی ظاہر ہوتی ہے تو غلبہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کو ہی ہوتا ہے۔پس قرآن کریم کے بعض حصوں میں جو بشارتیں دی گئی ہیں اور جن کی طرف میں اس وقت اشارہ کر رہا ہوں ان بشارتوں کا اہل بننے کے لئے آپ کے دلوں میں یقین محکم قائم ہونا چاہیے اور جماعت کے اندر اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل کی ذہنی کیفیت پیدا ہونی چاہیے۔اپنے محدود دائرہ میں بھی کہ مثلاً کبھی اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کا ایک حصہ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی اپنے وسیع دائرہ میں بھی یعنی کبھی خدا تعالیٰ کی جماعتیں اجتماعی رنگ میں خود کو اندھیروں کے سامنے پاتی ہیں۔ظاہر ہے جب اندھیرا سامنے ہو تو اندھیرا دور کرنے کے لئے جہاں سے نور مل سکتا ہے اس طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ہمارا تو وجو د ہی کچھ نہیں بلکہ انا اللہ ہم تو اللہ کے ہیں اور ہر ضرورت کے وقت اور ہر حالت میں اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم