خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 597 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 597

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۷ خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۷۴ء وہ سیاق و سباق کے لحاظ سے دو مختلف معانی میں بیان ہوا ہے۔جہاں یہ لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال ہوا ہے وہاں یہ معنی ہر گز نہیں ( کر) سکتے کہ نعوذ باللہ وہ روحانی طاقتیں جو آپ کو خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف پرواز کرنے کے لئے دی گئی تھیں آپ نے ان کا صحیح استعمال نہیں کیا۔اس کے یہ معنی ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اس معنی میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کہ جو معصومین کے سردار ہیں نہ ان کے لئے یہ لفظ اس معنی میں استعمال کیا جاسکتا ہے ، نہ ان دوسرے بزرگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سایہ کے نیچے ہیں مثلاً دیگر انبیاء علیہم السلام ہیں اور بعض اور لوگ بھی ہوں گے اور بھی ہیں۔ہوں گے کا امکان ہے اور ہیں، میں اس لئے کہتا ہوں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض ایسے گروہ تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ جو مرضی کریں وہ جنت میں جائیں گے اب جو مرضی کریں کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ (کسی ) کی ناجائز جان لے لیں یا کسی کا مال کھا جائیں اور بددیانتی کریں وغیرہ وغیرہ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ بھی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں آکر اس مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کی وہ طاقتیں اور استعداد میں جو انسان کو انسان بنا کر رفعتوں کی طرف اس کی پرواز میں ممد و معاون ہوتی ہیں، وہ دوسری طرف یعنی تنزل کی طرف حرکت ہی نہیں کر سکتیں۔اس لئے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں انہیں کامل تربیت حاصل ہوگی لیکن استغفار کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جائے کہ ہر وہ قوت اور استعداد جواے ہمارے رب ! تو نے ہمیں روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے اور اپنی رضا کی جنتوں میں جانے کے لئے دی تھی۔ہمیں اختیار دے کر ( فرشتوں کو اختیار نہیں دیا گیا۔انسان کو اختیار دیا گیا ہے ) تو نے ہماری ہر قوت، ہماری بشری کمزوری بنادی ہے۔ہم عاجز بندوں کو ، ہم کمزور بندوں کو تو نے یہ اختیار دیا اور یہ اختیار اس لئے دیا کہ ہم روحانی ترقیات کر سکیں لیکن اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ ہر وہ قوت اور استعداد جو تُو نے عطا کی تھی وہ ہمارے لئے ایک بشری کمزوری بن گئی اس لئے اے ہمارے رب ! ہمیں اپنی بشری کمزوریوں کے بدنتائج سے محفوظ رکھ اور تو نے ہمیں روحانی رفعتوں کے