خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 588
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸۸ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۷۴ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ کہ اللہ تعالیٰ کی معیت ایک تو متقیوں کو حاصل ہوتی ہے دوسرے محسنین کو۔چنانچہ تقویٰ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ بیان کیا ہے اس کے میں ایک دو حوالے اس وقت پڑھوں گا تا کہ احباب پر اس کا مفہوم واضح ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں:۔حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہوسکتی۔حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ - (الانفال: ۳۰) وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه - (الحديد : ۲۹ ) یعنی اے ایمان والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آجائے گا۔تمہاری عقل میں بھی نور ہو گا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔66 پھر آپ ملفوظات میں فرماتے ہیں:۔دو متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق ، ریا، نعجب ،حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے