خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 566 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 566

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۶۶ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء ایک گروہ انکار کرتا ہے۔جو گروہ انکار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا مشاہدہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں ایک عرصہ تک ڈھیل دیتا ہے۔چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم یہ نظارہ دیکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت اور مامورین کا آنا دنیا کی بھلائی اور دنیا کی خیر خواہی کے لئے ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں چونکہ یہ غرض ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی گرفت فوری طور پر نہیں آتی جو دوسرے جو ایمان لانے والے ہیں ان کی تربیت اور امتحان مقصود ہوتا ہے اور منکرین کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والوں اور نبیوں پر ایمان لانے والوں کی تربیت ہی اس رنگ میں کی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اُس کی رضا کے حصول کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔پس چونکہ منکرین کی بھی خیر خواہی مقصود ہوتی ہے اور چونکہ مومنین کا امتحان مقصود ہوتا ہے اس لئے فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی گرفت نازل نہیں ہوتی کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ فوری طور پر منکرین کو پکڑے اور ان پر عذاب نازل کر دے تو پھر تو بہ کا موقع جو انہیں میسر آ سکتا تھا اُس سے وہ محروم ہو جاتے ہیں۔اب دیکھو سب سے عظیم اور افضل اور آخری اور کامل اور مکمل شریعت لانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش مکہ نے جس قسم کی حرکتیں کیں اور جس قسم کے شیطانی منصوبے بنائے اور جس قسم کے انتہائی دُکھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دیئے ان کی گرفت پر بھی ایک لمبا عرصہ لگا وہ فوری طور پر نہیں پکڑے گئے۔پھر جب گرفت ہوئی تو سب نہیں پکڑے گئے بلکہ کچھ پکڑے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ زمانہ جس میں آپ اپنے وصال سے قبل صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت میں مصروف تھے اس وقت کا نقشہ یہ ہے کہ سوائے گنتی کے چند مومنوں کے اہل مکہ کی بڑی بھاری اکثریت انتہائی مخالفت اور ظلم کرنے پر نکلی ہوئی تھی۔پھر ایک عرصہ کے بعد جب عذاب آیا اور ان کو اللہ تعالیٰ نے جھنجھوڑا اور اللہ تعالیٰ کا قہران پر نازل ہوا تو اگر چہ بدر کے میدان میں چوٹی کے سردارانِ قریش میں سے بہتوں کے سرکاٹ دیئے گئے کیونکہ انہوں نے تلوار کے ذریعہ اسلام کو مٹانا چاہا اور تلوار کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہلاکت کا ان پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کیا۔یہ درست ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ مخالفین کی جو تعداد تھی