خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 553
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۵۳ خطبہ جمعہ ۱۰ رمئی ۱۹۷۴ء جماعت نے نہ صرف بجٹ کو پورا کر دیا بلکہ آٹھ فیصد زیادہ ادا کیا خطبه جمعه فرموده ۱۰ رمئی ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات قرآنیہ تلاوت فرمائیں:۔هذا ما تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ - إِنَّ هَذَا لَرِزُقُنَا مَا لَهُ مِنْ نَفَادِ - (ص: ۵۵،۵۴) پھر حضور انور نے فرمایا:۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بھی تمام انبیاء علیہم السلام کی جماعتوں میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اور اُن انبیاء علیہم السلام کی دُعاؤں اور تدابیر کے نتیجہ میں اُن کی امتیں اس صداقت پر قائم تھیں کہ یہ دنیا اور اس کی دولتیں اور اس کی عزتیں فانی اور لایعنی ہیں لیکن وہ رزق، وہ دولت اور وہ سب کچھ جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے اور جس کا حقیقی تعلق اُخروی زندگی سے ہے، وہ رزق جب انسان کو ملے تو وہ ختم نہیں ہوا کرتا بلکہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اور انسان پھر کبھی محرومی کا منہ نہیں دیکھتا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ اپنی عظمت و جلال کے لحاظ سے گذشتہ تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور اعلیٰ تھے اس لئے آپ کی قوت قدسیہ اور آپ کی دُعاؤں نے یہ اثر کیا کہ اُمت محمدیہ میں کروڑوں انسانوں کی جماعتیں ایسی پیدا ہوتی رہیں