خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 521
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۱ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء مومن کی زندگی کی نمایاں علامت ہے کہ وہ کسی منزل پر رکتا نہیں بلکہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے خطبہ جمعہ فرموده ۱۲ را پر میل ۱۹۷۴ء بمقام مسجد تھی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔طبیعت ابھی کمزور ہی چلی آرہی ہے۔گو پہلے سے بہتر ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ۔قرآن کریم نے ہمیں صرف یہ دعا نہیں سکھائی کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں صراط مستقیم کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ راستہ جو کم سے کم کوشش کے نتیجہ میں منزل مقصود تک پہنچانے والا ہو۔دنیا کی ہر خواہش کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ایک راستہ ہے اور جب تک اُس راہ کا علم انسان کو نہ ہو وہ منزلِ مقصود تک نہیں پہنچتا یا بہت تکالیف اُٹھانے کے بعد بہت چکر کاٹ کر اور تکلیف اُٹھا کر اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ہمیں صرف یہ دعا نہیں سکھائی بلکہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ کی دعا کی قبولیت کے ساتھ جو ذمہ واری ہم پر عائد ہوتی ہے اُس کے نبھانے کے لئے دعا ہمیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں پہلے سکھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اے خدا! ہمیں توفیق عطا کر کہ جو طاقتیں تو نے صراط مستقیم پر چل کر منازل مقصودہ تک پہنچنے کے لئے عطا کی ہیں