خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 491 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 491

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۹۱ خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء ملے۔ان میں سے اب تک صرف ۱۱ ملکوں کے وعدے ملے ہیں۔پھر ابھی اندرون ملک کی بہت سی جماعتوں کے وعدے موصول نہیں ہوئے کیونکہ میں نے مشاورت تک وعدہ جات کی وصولی کی میعاد مقرر کر رکھی ہے اور ابھی مشاورت میں کئی دن باقی ہیں۔علاوہ ازیں وہ نسلیں جو موج در موج احمدیت میں داخل ہوں گی یا ہمارے بچے اور نوجوان تعلیم سے فارغ ہو کر اگلے پندرہ سال میں کمانے والی دنیا میں داخل ہوں گے وہ تو ابھی اس منصو بہ میں شامل نہیں ہوئے۔اُن کا تو ہمیں بھی پتہ نہیں اور اُن بچوں کو بھی پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس قدر اقتصادی رحمتیں بھی اُن پر نازل کرے گا۔پس ابھی تو وقت ہے کئی اور لوگوں کی طرف سے اپنے اپنے وقت پر وعدے آئیں گے اور وہ بھی بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیں گے اور اس طرح تو شاید یہ رقم 9 کروڑ روپے سے بھی بڑھ جائے گی۔ویسے اصولاً ہمارا یہ تجربہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں بیٹھ جائے اور انسان نہایت عاجزی اور تضرع کے ساتھ خدا کے حضور جھک جائے اور بغیر ریا کے اور بغیر فخر کے دعاؤں میں لگ جائے تو خدا تعالیٰ اسے کسی چیز سے محروم نہیں رکھتا۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جس اصول کے ماتحت اللہ تعالیٰ اپنی اس محبوب جماعت کو مادی ذرائع سے نوازتا ہے۔جس قدر ضرورت پڑتی ہے اتنا مال عطا کر دیتا ہے۔اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ ہمیں ایک دھیلا بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں ملا۔جماعت کو بڑا محتاط رہنا چاہیے اور بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے اموال کی حفاظت بھی کرنی چاہیے اور بڑی احتیاط سے اُن کا خرچ بھی کرنا چاہیے۔بہر حال میں بتا یہ رہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اس صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کی تکمیل کے دوران کسی ایسے مقام پر پہنچے کہ جہاں اشاعت اسلام ہم سے بیس کروڑ روپے کی قربانی کا مطالبہ کرے تو اللہ تعالیٰ میں کروڑ کے بھی سامان پیدا کر دے گا۔انشاء اللہ العزیز۔بہر حال ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھرے ہوئے ہیں کہ وہ جو ایک دل کی آواز تھی اور جس کے متعلق مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا تھا کہ میں اس کا مطالبہ نہ کروں لیکن اس کا اظہار کر دوں۔آج خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ( اپنی گردنیں اوپر نہ اُٹھانا