خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 490
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۹۰ خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء ذریعہ اس کی بنیا درکھ دی گئی ہے۔اسلام دنیا میں غالب ہوگا اور ایک حسین معاشرہ قائم ہو گا جس میں ہر انسان کو اس کے حقوق ملیں گے۔کوئی شخص انسانی حقوق کو غصب کرنے کی جرات نہیں کرے گا تاہم اس کے لئے ہمیں عاجزانہ راہوں کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے نفس کو ایک مردہ کیڑے سے بھی بیج سمجھنا لازمی ہے۔پس اگر چہ قرآن کریم نے کامیابی کی اور بہت سی راہیں بھی بتائی ہیں لیکن اس وقت میں چونکہ لمبا خطبہ دینا نہیں چاہتا کیونکہ آٹھ نو دنوں سے پچپیش کا مریض ہوں اور اس کی وجہ سے کمزوری بھی ہے اس لئے میں مجموعی طور پر جماعت احمدیہ میں پائی جانے والی ان دوصفات کے اظہار پر اکتفا کروں گا۔میں نے یہ بتایا ہے کہ جب انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال پیدا ہو جاتا ہے اور انتہائی طور پر عجز کا احساس اور قربانی کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے تو اس کے بعد انسان نا کام نہیں ہوا کرتا۔ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے مگر خَشيَةُ اللهِ اور انفاق فی سبیل اللہ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔گذشتہ جلسہ سالانہ پر میں نے جماعت کے سامنے ایک منصوبہ رکھا تھا۔میں نے اس منصوبے کے اعلان سے پہلے بڑا غور کیا۔بہت دعائیں کیں۔دوستوں سے مشورے کئے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس سلسلہ میں میری طرف سے صرف اڑھائی کروڑ روپے کی مالی تحریک ہونی چاہیے۔تاہم میرا دل یہ کہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے اس لئے یہ رقم پانچ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔چنانچہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جب میں نے اس منصوبہ کا اعلان کیا تو ( میں نے اس کا ایک خاکہ بیان کیا تھا اس کی تفصیل میں انشاء اللہ مجلس مشاورت پر بتاؤں گا ) ساتھ ہی میں نے یہ بھی اعلان کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ یہ رقم اڑھائی کروڑ سے بڑھ کر پانچ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس منصوبہ کے لئے وعدوں کی رقم پانچ کروڑ سے او پر نکل چکی ہے۔فالحمد لله على ذلك۔اور اب میرا یہ خیال ہے کہ یہ رقم نو کروڑ روپے بلکہ شاید اس سے بھی آگے نکل جائے گی۔میں نے اپنے ایک پچھلے خطبہ میں نام لے کر بتایا تھا کہ ۵۱ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے وعدے نہیں