خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 468
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۸ خطبه جمعه ۱۵ / فروری ۱۹۷۴ء کہ کم از کم چار سوگھوڑے تو اس مقابلے میں شامل ہونے چاہئیں۔اس دفعہ چار سو تک تو نہیں پہنچے سو تک پہنچے ہیں اور اچھا ہوا ابھی چار سو تک نہیں پہنچے کیونکہ اس تھوڑی تعداد ہی نے بعض ضرورتوں کی طرف توجہ دلا دی ہے اور وہ یہ کہ گھوڑے خواہ چند روز کے لئے ہی جمع ہوں ان کے ٹھہرانے کا صحیح انتظام ہونا چاہیے تا کہ وہ پوری طرح صحت کے ساتھ اپنے مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔پس اگر چار سو گھوڑوں نے ایک وقت میں ربوہ میں ٹھہرنا ہے چارسو گھوڑوں کے لئے پُرانے طرز کی ایک یا ایک سے زائد سرائے ہونی چاہئیں جہاں گھوڑے بھی رہیں اور اُن کے مالکوں کے ٹھہرنے کے لئے کمرے بھی ہوں۔میں نے منتظمین کو اس طرف توجہ دلائی ہے اس کا جلد انتظام ہونا چاہیے۔ایک حصہ کا تو ( یعنی کچھ گھوڑوں کے لئے تو ) انشاء اللہ جلد ہی انتظام ہو جائے گا کیونکہ دوستوں کو جب گھوڑے رکھنے اور اُن کے استعمال کا شوق پیدا ہو گا تو گاؤں کے رہنے والے دوست پچیس تیس میل سے گھوڑوں پر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے یہاں آجایا کریں گے اس لئے ایسی جگہ کا انتظام ہونا چاہیے جہاں پندرہ میں گھوڑے جمعہ والے دن باندھے جاسکیں اور اُن کی خوراک کا انتظام ہو یہ بھی دارالضیافت کا ایک حصہ ہے۔مجھے یاد ہے دریائے بیاس کے کنارے پر جب ہماری جماعتیں مضبوط ہو ئیں تو وہاں کے بہت سے زمیندار دوست آٹھ میل، دس میل بلکہ بعض پندرہ میل سے گھوڑوں پر سوار ہوکر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے قادیان آجایا کرتے تھے۔بعض لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی بچھیریوں پر سوار ہو کر قادیان پہنچتے اور قریباً ہر نماز جمعہ میں شامل ہوتے تھے اور اس طرح اُن کی عام دینی اور دنیوی معلومات کا معیار بہت بلند ہو گیا تھا۔تاہم یہ تو گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ کے سلسلہ میں ضمناً بات آگئی ہے اور میں نے پھر توجہ دلائی ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس خیر کے حصول کی طرف بھی اُمت محمدیہ کو توجہ کرنی چاہیے اور ہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنیٰ خادم ہیں ہمیں بالخصوص اس منبع سے بھی خیر اور برکت کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت احمدیہ کے سامنے جو صد سالہ احمد یہ جو بلی منصوبہ رکھا گیا تھا اس سلسلہ میں ایک دو باتیں میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل 66