خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 464

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۴ خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۷۴ء اگر آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت نہیں رکھتے اور اُس قادر و توانا خدا کے اوپر آپ کا تو کل نہیں ہے اگر آپ اپنی زندگیوں میں اُس کی متصرفانہ قدرتوں کے جلوے نہیں دیکھتے وہ جلوے موجود تو ہیں لیکن اگر آپ ان کا مشاہدہ نہیں کرتے تو پھر یہ منصوبہ جنون کی علامت ہے لیکن نہیں جماعت احمد یہ مجنون نہیں چاہے دنیا اسے مجنون سمجھے۔صاحب فراست جماعت خدا تعالیٰ نے پیدا کی۔یہ وہ جماعت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کا جھنڈا دیا ہے اور جس کا ہر قدم دنیا کی ہر جہت میں غلبہ اسلام کی جانب اُٹھ رہا ہے لیکن پھر میں کہوں گا اور پھر میں کہوں گا اور پھر میں کہوں گا کہ وَلا فَخْرَ- فخر کا کوئی مقام نہیں ہے۔رونے کا اور عاجزی کا مقام ہے کہ کہیں انسان نفس کو دھوکا دے کر کئے کرائے پر پانی نہ پھیر دے۔پس عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ان نفلی عبادتوں کے ساتھ جس کا منصوبہ ابھی میں نے آپ کے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کریں اور ان برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے بعد خدا تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے اس یقین کے ساتھ کہ اسلام نے بہر حال غالب آنا ہے۔غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے نوازے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی طاقت سے حصہ عطا کرے اور اپنے نور سے ہمیں علم عطا کرے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ شیطان کی تمام ظلمات کو اس زمانہ میں دنیا سے مٹا کر تو حید کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر دل میں ایک پختہ ، اندر گھس جانے والی میخ کی طرح گاڑ کر اُس مقصد کے حاصل کرنے والے ہوں جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور جس مقصد کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کو دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا اور جس غرض کے لئے قرآن کریم جیسی بہت ہی عظیم اور حسین اور احسان کی طاقتیں رکھنے والی شریعت کو جو انسان کی تمام صلاحیتوں کی نشو و نما کی اہلیت رکھتی ہے اُسے دنیا کی طرف ابدی شریعت کے لحاظ سے قیامت تک قائم رہنے والی شریعت کے لحاظ سے بھیجا گیا ہے۔دعاؤں کے ساتھ دعاؤں میں مشغول رہ کر ان دُعاؤں کو بھی پڑھتے ہوئے اس طریق پر جو میں نے بتایا اور اپنی زبان میں بھی ہر شخص اپنے فہم اور اپنی قوت کے مطابق اپنے علم اور اپنی فراست کے مطابق خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور ایک چیز سامنے رکھے کہ غلبہ اسلام کے