خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 385 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 385

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۸۵ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء دوسرے کے سامنے آئیں تو آپس میں السلام علیکم کہیں۔قادیان میں احباب جماعت کو السلام علیکم کہنے کی عادت پڑ گئی تھی مگر یہاں چونکہ نئی آبادی ہے قادیان کے اصل باشندے تو شاید دس پندرہ فی صد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔باقی باہر سے نئے آباد ہونے والے لوگ ہیں۔اس لئے ان کو ابھی تک ایسی عادت نہیں پڑی جس کا مظاہرہ قادیان میں ہوا کرتا تھا۔مجھے یاد ہے میں چھوٹا تھا اور مدرسہ احمدیہ میں پڑھا کرتا تھا۔ہم دوست آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کسی دوست کو یہ موقع نہیں دیتے کہ وہ انہیں پہلے السلام علیکم کہے۔باہر چلتے پھرتے جب بھی ان کی کسی پر نظر پڑتی وہ اسے پہلے السلام علیکم کہہ دیتے تھے۔مجھے یاد ہے میں نے بھی اور میرے دوستوں نے بھی کئی دفعہ یہ کوشش کی کہ السلام علیکم کہنے میں ہم ان پر سبقت لے جائیں لیکن ایسا نہ کر سکے ہر بار ہی پہلے السلام علیکم کہہ دیتے تھے۔پس یہاں بھی دوست ایک دوسرے کو خواہ چھوٹا ہو یا بڑا سب کو السلام علیکم کہنے کی عادت ڈالیں تاکہ باہر سے آنے والے مہمان بھی دیکھ کر خوش ہوں اور وہ بھی اسی رنگ میں رنگین ہو جائیں۔پس آپس میں ایک دوسرے کو السلام علیکم کہنا چاہیے۔اس پر نہ کسی کا دھیلا خرچ ہوتا ہے اور نہ کوئی وقت خرچ ہوتا ہے۔اس لئے چلتے پھرتے السلام علیکم اور وعلیکم السلام کی صدا گونجتی رہنی چاہیے۔ربوہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مرکز ہے۔مرکز سلسلہ کو یہ عادت نہیں بھولنی چاہیے اگر۔اکثر مکین بدل گئے ہیں لیکن مرکز تو مرکز ہی ہے یہ تو نہیں بدل سکتا۔ایک اور گندی عادت پڑ گئی ہے اور وہ بازاروں میں سر عام کھانے پینے کی عادت ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوق (بازار) میں کھانے پینے کو پسند نہیں فرمایا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے ساری عمر اس سے نفرت رہی ہے بلکہ بچپن میں ہی جب میں نے یہ حدیث پڑھی تو میرے دل میں بازاروں میں کھانے پینے سے نفرت پیدا ہوگئی۔کئی دفعہ بازار میں سے مثلاً پھل خریدنے کا اتفاق ہوا تو جیسا کہ پھل بیچنے والوں کی عادت ہوتی ہے وہ فوراً چاقو سے پھل کاٹ کر کہتے ہیں لیں چکھ کر دیکھ لیں۔پس میں ایسے موقع پر کہہ دیا کرتا تھا کہ دیکھو میں نے یہاں تو کھانا نہیں تمہارے اوپر اعتبار کر سکتا ہوں۔اپنے اعتبار کو ضائع نہ کرنا۔چنانچہ بعض دفعہ پھل