خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 384
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۸۴ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء اور باطنی کا باہم ثبوت فراہم کیا ہے ویسے تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے عام طور پر جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی اور عام موقعوں پر بھی اس قسم کی شکائتیں زیادہ نہیں ہوتیں لیکن بعض دفعہ ہو جاتی ہیں۔اس سلسلہ میں ایک تو میں یہ کہوں گا کہ دوستوں کو سگریٹ اور حقہ پینے کی عادت نہ ہونی چاہیے۔لیکن اگر کسی کو اس کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا تو اسے چاہیے کہ پبلک جگہوں پر یعنی بازاروں میں برسر عام سگریٹ یا حقہ نوشی نہ کرے گو اس بات کا سارا سال خیال رکھنا چاہیے لیکن جلسہ سالانہ کے موقع پر تو خاص طور پر اس قسم کی کوئی حرکت نہ اہلِ ربوہ کی طرف سے ہونی چاہیے اور نہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنیوالے دوستوں کی طرف سے ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان میں بسنے والے احمدی بیرونی ممالک کے احمدیوں کی نگاہ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جس میں احمدیت کا مرکز ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر (منجملہ اہل ربوہ) زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک دفعہ ایک بہت بڑے ملک کے سفیر ربوہ میں آئے۔انہیں کسی نے یہ بتایا تھا کہ یہاں پبلک میں سگریٹ نوشی نہیں ہوتی اس لئے جس وقت وہ حد و در بوہ میں داخل ہوئے انہوں نے سگریٹ پینا بند کر دیا اور پھر جتنا عرصہ وہ یہاں رہے انہوں نے اپنے کمرے سے باہر نکل کر سگریٹ نہیں پیا۔چنانچہ انہوں نے اس حد تک ربوہ کا احترام کیا کہ جب وہ واپس جانے لگے اور اپنی موٹر پر بیٹھ گئے اور موٹر پختہ سڑک پر پہنچ گئی تو انہوں نے اپنا کوٹ اتارا اور سگریٹ کا بکس ورد یا سلائی کی ڈبیدا پنی قمیض کی جیب میں ڈالی تو میزبان نے کہا کہ آپ نے ربوہ کا بڑا احترام کیا اب تو آپ جارہے ہیں اس لئے سگریٹ پی لیں تو انہوں نے جواب دیا کہ جب تک میں ربوہ کی حدود سے باہر نہیں نکلوں گا سگریٹ نہیں پیوں گا۔پس اگر ایک غیر مسلم سفیر ربوہ کو تو اس عزت کی نگاہ سے دیکھے مگر ایک احمدی مسلمان (ربوہ کا مکین ہو یا پاکستان کے کسی بھی حصہ سے آنے والا ) ربوہ کے اس مقام کو نہ پہچانے تو یہ بڑے افسوس کی بات ہوگی۔اسی طرح خدا اور اس کے رسول نے ہمیں یہ بھی فرمایا ہے کہ جب بھی چلتے پھرتے ہم ایک