خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 20
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء ہے۔وہ بھی اس جہان سے گزر گئے جنہوں نے عاجزانہ اور عاشقانہ زندگیاں گزاریں اور وہ بھی اس جہان سے گذر گئے جنہوں نے اباء اور استکبار کی راہوں کو اختیار کیا لیکن آخری اور حقیقی کامیابی اسی کی ہوئی جس نے اپنے پیدا کرنے والے رب کے دامن کو نہ چھوڑا اور اس سے چمٹا رہا اور اپنے نفس کو کچھ نہ سمجھا۔ہر کام میں ہدایت پانے کے لئے اس کی نگاہ اپنے رب کے منور چہرہ کی طرف اُٹھی اور وہاں سے اس نے نور حاصل کیا۔یہ کامیابی جو حقیقی ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی ملتی ہے اور انفرادی زندگی میں بھی ملتی ہے۔بسا اوقات ظاہری آنکھ اس کا میابی کو نہیں دیکھ رہی ہوتی لیکن جو جا ر ہا ہوتا ہے اس کی زبان سے یہی نکلتا ہے کہ ربّ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا کیونکہ اسے اس وقت جنت کا دروازہ اپنے لئے کھلا نظر آ رہا ہوتا ہے اور جو اباء اور استکبار کی راہ کو اختیار کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے بے پرواہی برتتا ہے اور اس کے احکام کے نیچے اپنی گردن کو رکھنے کے لئے تیار نہیں وہ عارضی طور پر بعض جھوٹے دنیوی معیاروں کے لحاظ سے، بعض لوگوں کے نزدیک شاید کامیاب سمجھا جائے لیکن کیا وہ شخص کا میاب ہوا جو اس دنیا میں بھی آخری کامیابی کو حاصل نہیں کر سکا؟ کیا وہ شخص کا میاب ہوا جس کے لئے مرنے کے بعد اُس دنیا میں جنت کی بجائے دوزخ کے دروازے کھولے جائیں؟ ہرگز نہیں وہ کامیاب نہیں۔کوئی عقل اسے کامیابی نہیں کہہ سکتی کوئی فکر اسے کامیاب نہیں کہ سکتی۔پس حکومت اللہ کی ہے۔وَ لَهُ الْحَمْدُ جس رنگ میں وہ حاکم ہے اس کے نتیجہ میں ساری تعریفیں اس کی طرف منتقل ہوتی ہیں اور وہی ان کا سزاوار ہے۔پس اس رنگ میں ان اختیارات کو جو اس کی طرف سے تفویض کئے گئے ہیں، استعمال کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تا کہ اس کی رضا حاصل ہو جائے۔انفرادی زندگی میں بھی یہ ہمارا فرض ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی ہمارا یہ فرض ہے۔اللہ تعالیٰ ہم کو یہ توفیق دے کہ ہم اپنے فرائض کو سمجھ کر عقل کے ساتھ ان پر عمل کرنے والے اور ان کو ادا کرنے والے ہوں۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ ) 谢谢谢