خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 371 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 371

خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء بنیادی خصوصیات کے متعلق کچھ کہا تھا لیکن چونکہ اس وقت میرے ذہن میں دو مضمون تھے اور یہ مضمون دوسرے نمبر پر آیا تھا اسے میں قلت وقت کی وجہ سے تفصیل سے بیان نہیں کر سکا تھا۔میں نے ایک بات اصولاً یہ بیان کی تھی کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فطری صلاحیتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے ایک کامل وجود تھے یعنی انتہائی کمال جو کسی فطری صلاحیت میں متصور ہوسکتا ہے وہ آپ کی فطرت میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا اور وہ وسعت جو فطری صلاحیتوں اور استعدادوں میں سوچی جاسکتی ہے وہ وسعت آپ کی فطری صلاحیتوں اور استعدادوں میں بدرجہ اکمل موجود تھی اور انسان کی فطری صلاحیتوں میں جس قدر رفعت اور بلندی اور غلو شان کا امکان ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطری صلاحیتوں میں بدرجہ اولی موجود تھی۔غرض آپ فطری صلاحیتوں کا ایک ایسا کامل اور اعلیٰ نمونہ تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔کوئی انسان نہ آپ کا ہم شکل ہے اور نہ ہم صفت ہے کیونکہ آپ انسان کامل ہیں اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو بہت سے غیر مسلموں نے بغیر سوچے سمجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جو اعتراض کئے ہیں ہمیں ان کا جواب مل جاتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ دوسروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام تک پہنچنے سے روک کر ایک ظالم ہستی تو نہیں بن جاتا ؟ نہیں ! ہر گز نہیں۔اس لئے کہ دوسروں کو خدا تعالیٰ اس معنی میں جس میں اعتراض کیا جاتا ہے روکتا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے اگر اپنی کسی مصلحت کی بناء پر ایک وجود کو اکمل اور ارفع صلاحیتیں عطا کر دیں تو کسی دوسرے کو اعتراض کا حق اس لئے نہیں پہنچتا کہ خدا تعالیٰ پر کسی فرد بشر کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔وہ تو خالق اور مالک ہے اور خالق اور مالک پر کسی مخلوق کا حق واجب ہی نہیں ہوتا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ کا وجود اپنی فطری صلاحیتوں اور استعدادوں میں بے نظیر تھا ایک دوسرا پہلو ہے جو انہی سے تعلق رکھتا ہے ، وہ یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ حسنہ ہمیں نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جتنی بھی اور جس قدر بلندشان اور عظمت والی استعدادیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں ، آپ نے ساری عمر انتہائی کوشش اور عظیم مجاہدہ سے ان صلاحیتوں کی کامل نشوونما بھی کی اور پھر انسانی فطرت میں