خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 370

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۰ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء علاوہ ازیں میں چوہدری بشیر احمد صاحب ( کنویز مجلس صحت) کے نظام کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ باہر سے آنے والوں کے استقبال اور اظہار مسرت کے طور پر أَهْلًا وَسَهْلًا وَ مَرْحَبًا وغیرہ کے آٹھ نہایت ہی خوبصورت دروازے بنوائیں۔آٹھ کیوں یہ میں جلسہ سالانہ پر بتاؤں گا۔اس کے علاوہ بھی اس موقع پر ربوہ کو صاف اور ستھرا کر کے اس میں جھنڈیاں لگا کر اسے دلہن کی طرح سجادیں کیونکہ یہ ایک بہت بڑا نظام ہے۔یہ ایک بہت بڑی اور عجیب انسٹی ٹیوشن ہے جو اللہ تعالیٰ کے بڑے فضلوں کا مظہر ہے۔یہ ایسا با برکت جلسہ ہے جس میں دور و نزدیک سے احباب شامل ہو کر الہی برکتوں سے متمتع ہوتے ہیں۔وہ والہانہ رنگ میں اور عشق الہی میں سرشار ہو کر اس جلسہ میں شامل ہوتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اور بھی زیادہ پائیں۔وہ یہاں پروانہ وار ا کٹھے ہوتے ہیں تا وہ اسلام کے حق میں بیا ہونے والے انقلاب عظیم اور اس کے اثرات کا مشاہدہ کریں۔اپنے بھائیوں سے ملیں اور باہمی طور پر محبت و پیار کو بڑھا ئیں۔پس بڑی برکتوں کے ساتھ یہ جلسہ آتا ہے اور ہمارے لئے الہی برکتوں اور رحمتوں کا موجب بنتا ہے۔تمام احمدی اس کی برکتوں سے متمتع ہوتے ہیں۔اس لئے یہ وہ جگہ ہے جہاں کے چپہ چپہ پر مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے طفیل اللہ تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔سارا ر بوہ ہی ایک لحاظ سے جلسہ سالانہ بنا ہوتا ہے کسی حصے میں مہمانوں کی رہائش کا انتظام ہورہا ہوتا ہے کہیں نقار پر اور کہیں نمازوں اور تجد کا انتظام کیا جارہا ہوتا ہے۔غرض عبادت الہی کے نقطۂ نگاہ سے ربوہ کا چپہ چپہ ایسا ہے جہاں ہمارے سر خدا کے حضور جھکے ہوتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا اس حدیث کی رو سے میں سمجھتا ہوں کہ ربوہ کی ساری زمین جلسہ کے دنوں میں عملاً مسجد بن جاتی ہے۔پس میری دعا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اہلِ ربوہ کو جلسہ سالانہ کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔میں نے انصار اللہ کے اجتماع میں اپنی آخری تقریر میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی