خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 357 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 357

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۵۷ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء کے وقت میں دنیا میں مہدی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کے لئے باہر نکل کر تکالیف برداشت کیں اور اسلام کے لئے کام کیا۔یہ کام ختم نہیں ہوا یعنی تحریک جدید کا حملہ ایک جگہ تک گیا۔پھر اور صفیں تیار ہو رہی ہیں۔مبلغ تیار ہورہے ہیں۔کتابیں طبع ہو رہی ہیں۔وہ بھی جائیں گے جماعت میں وسعت پیدا ہورہی ہے کسی اور نام کے ساتھ بھی لوگ باہر جائیں گے لیکن تحریک جدید کا نام ہماری تاریخ سے محو نہیں کیا جا سکتا۔اسے قیامت تک چلنا ہے اور اسے کامیاب رکھنے کے لئے جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے بہر حال اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے ہم نے ان قربانیوں کو اُس کے حضور پیش کرنا ہے۔تحریک جدید کی اہمیت کے ایک پہلو کو نمایاں کر کے میں نے اس وقت آپ کے سامنے رکھا ہے۔انتالیس سال گزر چکے ہیں اور قیامت تک خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کتنے سال اور گذریں گے ہر سال ہم نے پہلے سے آگے قدم رکھنا ہے۔ہر سال ہمارے کام میں وسعت اور شدت پیدا ہوگی اور ہر سال جماعت کی وسعت کے ساتھ جماعت کی قربانیوں میں بھی ایک وسعت پیدا ہوگی۔اس وقت میں چالیسویں سال کا اعلان کر رہا ہوں۔اس سے قبل چونتیسویں سال سے لے کراُنتالیسویں سال کے وعدوں کی رفتار یہ ہے۔تحریک جدید کے چونتیسویں سال میں پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے کے وعدے تھے۔پینتیسویں سال میں چھ لاکھ تیس ہزار کے وعدے تھے۔چھتیسویں سال میں چھلا کچھ پینسٹھ ہزار روپے کے وعدے تھے۔سینتیسویں سال میں ملک کے حالات کے لحاظ سے ایک جھٹکا لگا۔گو ہمارا قدم پیچھے تو نہیں ہٹا لیکن وعدوں میں کمی آگئی۔اور اُس سال چھ لاکھ اڑتیس ہزار روپے کے وعدے تھے اور پھر جماعت نے سنبھالا لیا اور ظاہری طور پر بھی پیچھے تو جماعت کبھی نہیں ہٹی نہ ایک جگہ ٹھہری ہے لیکن ملک کے حالات کی وجہ سے جس کی تفصیل میں اس وقت جانا مشکل ہے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وعدے کم ہیں لیکن عملاً کم نہیں۔اڑتیسویں سال میں چھ لاکھ پچھتر ہزار روپے کے وعدے اور اُنتالیسویں سال میں سات لاکھ دس ہزار روپے کے وعدے تھے اور اگر آپ کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ میری دعائیں قبول فرمائے تو میں نے جو سات لاکھ نوے ہزار روپے کا