خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 347
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۷ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء غیر فلسفیہ کو مقہور و مغلوب کرتے ہیں ان کے ظہور کا زمانہ یہی تھا۔کیونکہ وہ بجر تحریک ضرورت پیش آمدہ کے ظاہر نہیں ہو سکتے تھے۔سواب مخالفانہ حملے جو نئے فلسفہ کی طرف سے ہوئے تو ان معارف کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا اور ممکن نہیں تھا کہ بغیر اس کے کہ وہ معارف ظاہر ہوں اسلام تمام ادیان باطلہ پر فتح پاسکے کیونکہ سیفی فتح کچھ چیز نہیں اور چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے۔سچی اور حقیقی فتح وہ ہے جو معارف اور حقائق اور کامل صداقتوں کے لشکر کے ساتھ حاصل ہو۔سو وہ یہ فتح ہے جواب اسلام کو نصیب ہورہی ہے۔بلا شبہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے حق میں ہے اور سلف صالح بھی ایسا ہی سمجھتے آئے ہیں۔یہ زمانہ در حقیقت ایک ایسا زمانہ ہے جو بالطبع تقاضا کر رہا ہے جو قرآن شریف اپنے ان تمام بطون کو ظاہر کرے جو اس کے اندر مخفی چلے آتے ہیں۔۔۔۔یہ بات ہر ایک فہیم کو جلدی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ جل شانہ کی کوئی مصنوع دقائق وغرائب خواص سے خالی نہیں۔اور اگر ایک مکھی کے خواص اور عجائبات کی قیامت تک تفتیش و تحقیقات کرتے جائیں تو بھی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔تو اب سوچنا چاہیے کہ کیا خواص و عجائبات قرآن کریم کے اپنے قدر واندازہ میں لکھی جتنے بھی نہیں۔بلا شبہ وہ عجائبات تمام مخلوقات کے مجموعی عجائبات سے بہت بڑھ کر ہیں ( کیونکہ تمام کی تمام مادی مخلوقات کے مقابلے میں قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی حیثیت میں مقابلہ پر ہے) اور ان کا انکار در حقیقت قرآنِ کریم کے منجانب اللہ ہونے کا انکار ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو اور اس میں بے انتہا عجائبات نہ پائے جائیں۔۔۔۔۔وہ نکات و حقائق جو معرفت کو زیادہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ حسب ضرورت کھلتے رہتے ہیں اور نئے نئے فسادوں کے وقت نئے نئے پر حکمت معانی بمنصہ ظہور آتے رہتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم بذات خود معجزہ ہے اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے۔مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے۔جیسے جیسے وقت کے مشکلات تقاضا کرتی ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔دیکھو دنیوی علوم جو اکثر مخالف قرآنِ کریم اور غفلت میں ڈالنے