خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 348

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۸ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء والے ہیں۔کیسے آج کل ایک زور سے ترقی کر رہے ہیں اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقاتوں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جاتا۔تا شرور محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی۔سویقینا سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے اور خدائے تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخفیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔اب نیم ملا دشمن اسلام اس ارادہ کو روک نہیں سکتے۔اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے تو ہلاک کئے جائیں گے اور قہری طمانچہ حضرت قہار کا ایسا لگے گا کہ خاک میں مل جائیں گے۔ان نادانوں کو حالت موجودہ پر بالکل نظر نہیں۔چاہتے ہیں کہ قرآن کریم مغلوب اور کمزور اور ضعیف اور حقیر سا نظر آوے لیکن اب وہ ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔ہاں وہ ایک شیر کی طرح میدان میں آئے گا اور دنیا کے تمام فلسفہ کو کھا جائے گا اور اپنا غلبہ دکھائے گا۔اور لیظهر عَلَى الدِّينِ كُلِهِ (الصف:۱۰) کی پیشگوئی کو پوری کر دے گا اور پیشگوئی وَلَيْسَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ (النور : ۵۶) کو روحانی طور سے کمال تک پہنچائے گا۔کیونکہ دین کا زمین پر بوجہ کمال قائم ہو جانا محض جبر اور اکراہ سے ممکن نہیں۔دین اس وقت زمین پر قائم ہوتا ہے کہ جب اس کے مقابل پر کوئی دین کھڑا نہ رہے اور تمام مخالف سپر ڈال دیں۔سواب وہی وقت آ گیا۔اب وہ وقت نادان مولویوں کے روکنے سے رک نہیں سکتا۔اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجز معلم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے بہت سا خزانہ قرآنِ کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور لا یقبلۂ احد کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی اس کام کے لئے کہ نوع انسانی میں سے ہر فرد کی طبیعت اپنے ظرف کے مطابق قرآنی علوم سے پُر ہو جائے یہ ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے کہ ہم اس بنیادی ذمہ داری کو سمجھیں اور نبھا ئیں تا کہ وہ خیر امت کی بنیادی خوبی ہم میں بھی پیدا