خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 229
خطبات ناصر جلد پنجم مقام خوف ہے جس کی فکر کرنی چاہیے۔۲۲۹ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء پس تم کچھ کر کے بھی فخر نہ کرو بلکہ کچھ کر کے اور زیادہ عاجزانہ طور پر اپنی گردنوں کو اس کے حضور جھکا لو کیونکہ خطرے کا وقت اب آ گیا ہے۔تم نے اپنی طرف سے قربانی پیش کر دی دیکھنا یہ ہے کہ عند اللہ قبول بھی ہوتی ہے یا نہیں۔یہ ایک بنیادی نکتہ ہے جو ہر وقت مومنوں کے سامنے رہنا چاہیے۔جب ایک مومن خدا کے حضور کوئی قربانی پیش کرتا ہے تو وہ اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ اس کے دل میں خدا کے حضور پیش کرنے کا پہلے سے زیادہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں قبول ہوگا یا نہیں۔لیکن جب تم نے کچھ پیش ہی نہیں کیا تو قبول ہونے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن جس وقت تم نے خدا کے حضور کچھ پیش کر دیا اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا عند اللہ مقبول بھی ہے یا نہیں۔یہ ایک بڑا اہم سوال ہے اور بڑا نازک سوال ہے۔ہر ایک احمدی کو اس کی فکر کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے کہا یہ تھا کہ مغربی افریقہ میں خرچ کرنے کے لئے کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ جمع کرو اور خدا تعالیٰ نے دے دیا تین چار گنا زیادہ۔جماعت نے یہ قربانی باقی چندوں میں اسی طرح شدت اور تیزی کو قائم رکھتے ہوئے دی یعنی باقی چندوں کا تسلسل قائم رہا ( یہ میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب پاؤنڈ گیارہ بارہ روپے کا تھا اب تو اس کی قیمت بڑھ گئی ہے) چنانچہ پاکستان کی جماعتوں نے قریباً تین لاکھ پاؤنڈ چندہ دیا اور ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ بیرونِ پاکستان کی جماعتوں نے چندہ دیا۔کہا تھا کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ ہونا چاہیے اور دے دیا ہمیں قربانی کی شکل میں ساڑھے تین اور چارلاکھ پاؤنڈ۔صرف یہی نہیں بلکہ ہم نے وہاں جو کلینک کھولے ہیں ان سے جو بچت ہوئی ہے وہ ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ اب دیکھو اللہ تعالیٰ کتنا دیا لو ہے۔اس لئے جب میں یہ کہوں یا کوئی اور کہے کہ ہر انسان کے ہاتھ میں قرآنِ کریم مترجم پہنچانا جماعت احمدیہ کا کام ہے تو دنیا جو کہے سو کہے آپ میں سے کسی شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ یہ کہے کہ یہ غریب جماعت اس عظیم الشان کام کو کیسے کرے گی۔آخر اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال کی شکل میں جو دولت عطا فرمائی ہے وہ تمہارے