خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 178
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۸ خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء فرمایا ہے اور جو تفسیر قرآنِ عظیم ہے ان صفات کے بیان کو پڑھنا اور ان کو سمجھنا اور ان کو یادرکھنا ہمارا فرض ہے گویا ہمیں عرفان صفات باری حاصل ہونا چاہیے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ شاہد ہیں۔صفات باری کے گواہ ہیں اور ان کی صفات کی حقیقت کو اپنے عمل سے ثابت کرنے والے ہیں اس لئے اس جہت سے آپ کی متابعت میں ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے والے اور ان پر غور کرنے والے ہوں۔ہمیں صفات باری کی اس حد تک معرفت حاصل ہو جائے کہ وہ ہماری زندگی کی روح رواں بن جائیں۔وہ ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہو جائیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شاہد ہونا ہم احمد یوں پر یہ ذمہ داری بھی ڈالتا ہے ( یوں تو سب نوع انسانی پر ڈالتا ہے لیکن اس وقت پہلے مخاطب آپ ہیں اس واسطے میں کہوں گا کہ احمدیوں پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہے ) جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے شاہد کی صفت میں علمی لحاظ سے صفاتِ باری اور توحید باری کو بیان کرنے والا جو حصہ ہے وہ محض ایک فلسفیانہ بیان نہیں بلکہ وہ ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہونے والا بیان ہے۔اس کی غرض یہ ہے کہ ہم صفات باری کے مظہر بنیں تو گویا شاہد کی صفت کے مقابلہ میں جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وجود پر صفات باری کا جو رنگ چڑھایا تھا ہم بھی اپنے پر وہی رنگ چڑھانے کی کوشش کریں۔تاہم یہ تو صیح ہے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بن سکتے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر بن سکتے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ اور آپ کا ظل بن جائیں۔ایک اچھا فوٹو گرافر اچھی تصویر کھینچتا ہے لیکن ایک عام فوٹوگرافر بالخصوص دیہات میں رہنے والا تو بڑی بھڑی سی دھندلی سی تصویر کھینچتا ہے لیکن تصویر ہوتی تو اسی شخص کی ہے جس کی تصویر کھینچی گئی ہے۔گویا ایک اچھا کیمرہ زیادہ عمدہ اور روشن عکس لے لے گا لیکن ایک خراب اور سستا کیمرہ دھندلا ساعکس لے گا اسی طرح ایک شخص جو پوری توجہ اور محنت اور اخلاص سے سعی اور کوشش کرنے والا ہے اور اس کی استعداد بھی زیادہ ہے وہ زیادہ نورانی عکس لے لے گا لیکن ایک کمز ور ایمان شخص جو عملاً ست ہے وہ بھی عکس تو